Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Dawat Ilallah
Dawat Ilallah

مسجد وار دعوت

Urdu · 2 min

ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میں نے دنیا بھر میں مختلف ملکوں کا سفر کیا۔ میں نے پایا کہ دوسری قوموں کے لوگ جہاں جہاں گئے، وہاں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنائے۔ لیکن مسلمان جب عرب سے نکل کر دنیا کے مختلف ملکوں میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہر جگہ مسجدیں بنائیں۔ یہ مسجدیں گویا کہ اسلام کے مراکز ہیں۔

اسلام کی حیثیت ایک غیر سیاسی امپائر کی ہے، اور یہ مسجدیں گویا کہ عالمی سطح پر قائم اس غیر سیاسی امپائر کی شاخیں ہیں، جو ساری دنیا میں تقریباً ہر شہر اور ہر بستی میں موجود ہیں۔ یہ مسجدیں ایک اعتبار سے اسلام کی عبادت گاہیں ہیں، دوسرے اعتبار سے یہ مسجدیں اسلام کے دعوتی مراکز ہیں۔ ان مسجدوں کے ذریعے جس طرح عالمی سطح پر نماز کا نظام قائم ہے، اسی طرح ان مسجدوں کے ذریعے اسلام کی عالمی دعوت کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جمعہ اور عیدین کا دن اس مقصد کے لیے بہت زیادہ موزوں ہے۔

ان دنوں میں مسلمان بڑی تعداد میں ان مسجدوں میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ عالمی سیاح بھی اپنے سفر کے دوران مختلف تاریخی مسجدوں میں برابر آتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذریعے اسلام کی دعوت تیزی سے عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے۔ دعوت اہل ایمان پر اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز ان کے اوپر فرض ہے۔

سورہ نمبر 2، آیت 143: مسجد دعوت اور عبادت دونوں فرائض کی ادائیگی کے لیے فطری مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سی پی ایس انٹرنیشنل نے بڑی تعداد میں پمفلٹ اور بروشرز خوبصورت انداز میں چھپوائے ہیں۔ ان میں اسلام کی تعلیمات کو سادہ اور عصری اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ پمفلٹ اور بروشر اردو اور ہندی اور انگریزی زبان میں بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔

مسجدوں کے امام اس دعوتی مہم میں نہایت آسانی کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔ وہ اس لٹریچر کو منگوا کر اپنے یہاں رکھیں اور لوگوں کے درمیان ان کو تقسیم کریں۔ اس طرح مسجدوں کے امام بیک وقت دو کام کر سکتے ہیں: نماز کی امامت اور دعوت اسلامی کی اشاعت۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.