Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dawat Ilallah
Dawat Ilallah

دعوت اور عمل

Urdu · 4 min

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرو، جب ان کی اصلاح ہو جائے گی تو لوگ ان کو دیکھ کر خود بخود اسلام قبول کر لیں گے۔ اصولی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت اپنے آپ میں ایک ذمہ داری ہے۔ دعوت کا کام ہر حال میں کرنا ہے، جس طرح نماز ہر حال میں پڑھنا ہے۔

کوئی بھی عذر دعوتی فریضے کی ادائیگی سے باہر رہنے کے لیے کافی نہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر اپنے نظریے کو درست سمجھتے ہیں تو وہ تاریکینِ صلاۃ سے نماز پڑھنے کے لیے بھی نہ کہیں، وہ یہ کریں کہ وہ خود نماز پڑھیں اور یہ یقین کریں کہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنے آپ نماز پڑھنے لگیں گے۔ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ مسلمان اگر درست ہو جائیں تو غیر مسلم صرف ان کو دیکھ کر ہی اسلام قبول کر لیں گے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں 100000 سے زیادہ پیغمبر آئے، اور یہ پیغمبر مسلمہ طور پر اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، مگر ایسا نہیں ہوا کہ پیغمبروں کو دیکھ کر لوگ خدا کے دین کو اختیار کر لیں۔

حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کا وہ حال ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ سورہ نمبر 36 آیت 30۔ اصل یہ ہے کہ آدمی جب کسی کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ وہ خود بھی اس پر کاربند ہو۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل دعوت کی شرط ہے۔ دعوت کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، خواہ داعی اس پر عامل ہو یا نہ ہو۔

مفسر ابن کثیر نے سورۃ البقرہ آیت 44 کے تحت لکھا ہے کہ معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا دونوں واجب ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔ علمائے سلف اور علمائے خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم معروف کی تلقین کرے گا اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو، اور وہ منکر سے روکے گا اگرچہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔

سعید ابن جبیر تابعی نے درست طور پر کہا کہ اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اس وقت معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے جبکہ اس کے اندر کوئی منکر نہ پایا جا رہا ہو، تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتا۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 85۔ اصل یہ ہے کہ دعوت احساسِ ذمہ داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے، نہ کہ احساسِ صالحیت کے تحت۔ مدعو جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا کرتا ہے، نہ کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر۔

اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیاء کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی، مگر معلوم ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکٹھا نہیں ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال صرف امریکہ میں تقریباً 100000 غیر مسلم اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر یہ درست ہے کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں، تو کیا موجودہ زمانے میں امریکہ اور دوسرے مقامات پر رہنے والے مسلمان ایسے ہی باعمل ہیں جنہیں صرف دیکھ کر غیر مسلموں کی اتنی بڑی تعداد اسلام میں داخل ہو جائے؟ اصل یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں اور ہر شخص کو دینا ہے۔

دعوت کے لیے عمل کی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ البیہقی اور ابن عساکر نے جابر ابن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حذیفہ نے ہم سے کہا کہ ہم اس علم، یعنی دینِ حق کے حامل بنائے گئے تھے، اس کو ہم تمہیں دے رہے ہیں اگرچہ ہم خود اس پر عمل نہ کر سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.