Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Daure Dawat
Daure Dawat

انسانیت انتظار میں

Urdu · 2 min

20 نومبر 2016 کو ہمارے ایک ساتھی دہلی ایئرپورٹ پر اترے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ ماڈرن قسم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھی کے بیگ میں انگریزی ترجمہ قرآن موجود تھا۔

وہ ان کے قریب گئے اور ایک نوجوان کو انگریزی ترجمہ قرآن یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ آپ کے لیے گفٹ ہے۔ نوجوان نے اس کو دیکھا تو وہ خوشی کے ساتھ کہہ اٹھا "واوو"۔ دوسرے نوجوانوں کو جب معلوم ہوا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کو بھی واو کہنے کا موقع دیجیے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم قرآن کو پڑھیں اور یہ جانیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر ایک نمائندہ واقعہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سارے انسان، مرد اور عورت دونوں، اپنی فطرت کے زور پر اس تلاش میں ہیں کہ وہ جانیں کہ اس دنیا کا خالق کون ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہمارے لیے اس دنیا میں زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ خدا نے اپنی کتاب میں ہمیں کیا پیغام دیا ہے؟ یہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر ہر مرد اور ہر عورت کے دل کی آواز ہے۔

یہ صورتحال کی ایک پکار ہے۔ یہ پکار ان تمام لوگوں کو مخاطب کر رہی ہے جو قرآن کے حامل ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو دنیا کی تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کریں اور اس کو لوگوں تک پہنچائیں، تاکہ لوگ اپنی قابلِ فہم زبان، یعنی انڈرسٹینڈ ایبل لینگویج میں، پڑھ کر جان سکیں کہ قرآن میں ان کے لیے کیا پیغام ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر شخص اپنے ساتھ ترجمہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے رکھے، اور جب بھی کسی مرد یا عورت سے ملاقات ہو تو اس کو وہ ایک اسپرچول گفٹ کے طور پر پیش کرے۔

یہ حاملینِ قرآن کے لیے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی ایک ایسی صورت ہے جو ہر ایک کے لیے پوری طرح قابلِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچانا ہر مسلمان کے لیے ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے بغیر وہ اللہ کے سامنے بری الذمہ قرار نہیں پا سکتے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.