اسلامی تہذیب اور معیدِ اسلام تہذیب کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں؛ اس کا تعلق براہِ راست طور پر آدمی کے مزاج سے ہے۔ اسلامی تہذیب کا تصور قدیم زمانے میں موجود نہ تھا، یہ صرف موجودہ زمانے میں ابھرا ہے۔ بظاہر یہ مسلم فخر کا ایک معاملہ تھا، مگر عملاً وہ غلط فکر کا معاملہ بن گیا۔ موجودہ زمانے میں ایک بہت بڑا واقعہ ہوا جو مسلمان کے لیے نہایت مفید معاملہ تھا۔
یہ واقعہ مغربی تہذیب کا معاملہ تھا۔ مغربی تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں معیدِ دین تہذیب تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع، یعنی گریٹ اپرچونٹی تھا، جس کو استعمال کر کے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کر سکتے تھے۔ مگر اسلامی تہذیب کے نام پر فخر پسندی کا مزاج مسلمانوں پر اس طرح چھا گیا کہ وہ اس حقیقت کو دریافت ہی نہ کر سکے کہ مغربی تہذیب ان کے دین کے لیے تائید کا درجہ رکھتی ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی غیر حقیقت پسندانہ سوچ کی وجہ سے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب سمجھ لیا گیا، جبکہ بااعتبارِ حقیقت وہ ایک معیدِ اسلام تہذیب تھی۔ اس غلط فکر کا نقصان اتنا بڑا ہے کہ شاید پوری مسلم تاریخ میں اتنے بڑے نقصان کا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ مغربی تہذیب نے تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کے لیے نئے مواقع کھولے تھے۔ ان میں سب سے بڑا موقع یہ تھا کہ وہ اسلام کی عالمی دعوت کے ناتمام، یعنی ان فنشڈ، منصوبے کو تکمیل تک پہنچا سکے اور حدیث کے الفاظ میں اللہ کے کلام کو زمین پر آباد چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل کر دیں۔
مگر مسلمان اپنی غلط فکری کی وجہ سے جدید مواقع کو اپنے دین کے حق میں استعمال نہ کر سکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.