یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے میں بائبل کے بیان اور قرآن کے بیان میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ بائبل میں کشتیِ نوح یعنی نوہ زارق کا ذکر تفصیل سے آیا ہے، مگر ایک بات بائبل میں سرے سے موجود نہیں، اور وہ یہ پیشنگوئی ہے کہ کشتیِ نوح بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگی اور وہ اللہ کی آیت یعنی نشانی بنے گی۔ کشتیِ نوح کے اس پہلو کا ذکر قرآن میں ایک سے زیادہ بار آیا ہے، لیکن بائبل میں وہ سرے سے موجود نہیں۔
یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ قرآن کے مومنین بعد کے زمانے میں کشتیِ نوح کو تلاش کریں اور اس کو دریافت کر کے بعد کے لوگوں کے لیے اس کو حجت بنا دیں۔ یہ کام وہ لوگ کر سکتے تھے جن کے اندر سائنسی تحقیق کا ذوق ہو، مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذوق سے مکمل طور پر خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسیحی اور یہودی علماء اس معاملے کی تحقیق نہ کرتے تو شاید تاریخِ نبوت کے اس معاملے سے انسان ابھی تک بے خبر رہتا۔ کشتیِ نوح کا ظاہر ہونا کوئی سادہ بات نہیں؛ یہ قیامت سے پہلے قیامت، قیامت کا اعلان ہے۔
یہ اس تاریخی واقعے کا اعلان ہے کہ خالق نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اس کو نظرانداز کیا۔ یہ تخلیقِ خداوندی اور تاریخِ انسانی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کا اعلان ہے، جس کو انسان نے قائم کر رکھا تھا۔ یعنی خالق کے مقرر کردہ منصوبۂ تخلیق کو نظرانداز کر کے زمین پر زندگی گزارنا۔ قیامت کا دن حقیقت کے کلی ظہور کا دن ہے۔
اس سے پہلے کشتیِ نوح یعنی نوہ زارق کا ظہور حقیقت کے جزئی ظہور کا دن ہوگا۔ کشتیِ نوح کا ظہور علامتی طور پر بتائے گا کہ دنیا کے خالق نے انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا، اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طور پر نظرانداز کیا، حتیٰ کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کر دیا۔ کشتیِ نوح کا ظہور اس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔ یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیونکہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو واضح طور پر بتایا گیا ہے۔
کشتیِ نوح کا ظہور تاریخِ انسانی کے ایک گمشدہ باب کی دریافت ہوگا، اور قرآن تاریخ کے اس گمشدہ باب کا مستند بیان، یعنی آتھینٹک سٹیٹمنٹ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.