حضرت نوح کی قوم میسوپوٹیمیا کے علاقے میں آباد تھی، اللہ کے حکم کے تحت وہاں بہت بڑا سیلاب آیا۔ معلوم تاریخ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا واحد سیلاب تھا جب سیلاب کا پانی اونچا ہوا اور حضرت نوح کی کشتی اس میں تیرنے لگی تو وہ مختلف سمتوں سے جا سکتی تھی، مگر کشتی نے خدائی حکم کے تحت ترکی کا رخ اختیار کیا۔ بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ میسوپوٹامیا سے قریب ترین پہاڑی سلسلہ جہاں گلیشیئر بنتے ہوں، وہ جودی یا ارارات کا سلسلہ کوہ تھا۔ تقریباً 1600 کلومیٹر کا سفر طے کر کے کشتی نوح ترکی کے مشرق میں واقع جودی پہاڑ پر پہنچی اور وہاں ٹھہر گئی۔
سیلاب کا پانی اترنے کے بعد یہاں کشتی کے لوگ کشتی سے باہر آ گئے۔ ان میں تین خاص افراد حضرت نوح کے تین بیٹے تھے: حام، سام، یافث۔ بعد کی انسانی نسل اصلًا حضرت نوح کے انہی تین بیٹوں کے ذریعے چلی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے ایک بیٹے یافث، یعنی جوفث، یورپ کے علاقے میں آباد ہوئے، اور آپ کے دوسرے بیٹے حام افریقہ میں آباد ہوئے، اور آپ کے تیسرے بیٹے سام، یعنی شیم، ایشیا کے علاقے میں آباد ہوئے۔
حضرت نوح کے زمانے تک جو انسانی نسل تھی وہ براہ راست طور پر حضرت آدم کی نسل تھی۔ حضرت نوح کے بعد جو انسانی نسل دنیا میں پھیلی وہ زیادہ تر حضرت نوح کے انہی تین بیٹوں کے ذریعے پھیلی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.