کائنات ایک انتہائی بامعنی کارخانہ ہے۔ کائنات کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو، جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔ مگر کائنات کے سب سے زیادہ سرسبز اور قیمتی حصے پر انسان ظلم و فساد جاری کیے ہوئے ہے۔
حق کے نام پر حق کو قتل کیا جا رہا ہے، اور کائنات اپنی تمام معنویت کے باوجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔ وہ زمین پر سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھتی ہے، مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ وہ سچ کو سچ نہیں کہتی، اور جھوٹ کے جھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔ کیا کائنات کے اندر تضاد ہے؟
کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے، جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں، کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے والی زبان نہیں؟ جواب یہ ہے کہ یقیناً ہے۔ مگر خدا نے اس کو قیامت تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔ جیسے ہی سور پھونکا جائے گا، تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔
اس وقت ساری کائنات ایک عظیم ریکارڈ بن جائے گی، اور پھر خدا کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جو حق اور عدل کے مطابق اسے بتانا چاہیے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنانے والا سورج موجود تھا، اس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریکی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لا سکے۔ اس دن خدا کے سرکش بندے اپنی سرکشی کی ابدی سزا بھگتنے کے لیے جہنم کی آگ میں ڈال دیے جائیں گے، اور خدا کے نیک بندے خدا کی رحمتوں کے سائے میں جنت میں داخل کیے جائیں گے، جہاں وہ عزت اور آرام کی ابدی زندگی کا لطف اٹھاتے رہیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.