ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ جو چیزیں اندھیرے میں چھپی ہوئی تھیں، وہ دن کی روشنی میں لوگوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔ یہ آج کی ایک مثال ہے جو کل کے بارے میں لوگوں کو بتا رہی ہے۔
جب آخرت کا سورج طلوع ہوگا، تو وہ تاریکی کے اُن پردوں کو پھاڑ دے گا جو آج لوگوں کی اصل حیثیت کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اُس وقت ہر آدمی اپنی اصل صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ اُس وقت صاف نظر آئے گا کہ کون شخص اندر سے جانور تھا اور بظاہر انسانی صورت میں چل رہا تھا، کون شخص ناحق پر تھا اگرچہ وہ خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو حق پرست ثابت کیے ہوئے تھا، کون شخص اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش میں مبتلا تھا اگرچہ زبان سے وہ اللہ کا نام لیتے ہوئے نہیں تھکتا تھا۔ اس کے بعد کچھ اور اشخاص ہوں گے جن کی حقیقت آخرت کے دن کھل کر سامنے آئے گی۔
لوگ دیکھیں گے کہ ایک شخص جس کو انہوں نے اُس کے معمولی حالات کی بنا پر غیر اہم سمجھ لیا تھا، وہ اپنے اندر اہمیت کا پہاڑ لیے ہوئے تھا۔ ایک شخص جس کو دنیا کی پررونق مجلسوں میں عزت کی جگہ نہیں ملتی تھی، وہ فرشتوں کی زیادہ باعزت مجالس میں اپنے صبح و شام گزار رہا تھا۔ ایک شخص جس کو وقت کے بڑوں نے اپنے نزدیک رد کر دیا تھا، وہی وہ شخص تھا جس کو خدا کی طرف سے مقبولیت کی سند ملی ہوئی تھی۔ ایک شخص جس کو دنیا کے لوگ بے دین قرار دے کر حقارت کے خانے میں ڈالے ہوئے تھے، اُس کا نام خدا کے یہاں دین داروں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.