Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Dakhal andazi nahi

Urdu · 4 min

دخل اندازی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ سورج کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے، اور نہ رات کے لیے یہ ہے کہ وہ دن سے پہلے آ جائے۔ ہر ایک اپنے مدار یعنی orbit میں چل رہے ہے۔ سورہ نمبر 36 آیت 40۔

اس آیت میں خدا کے ایک قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس نے سیاروں اور ستاروں کی دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ ستارہ یا سیارہ اپنے اپنے مدار میں حرکت کرے، وہ کسی دوسرے سیارے کے مدار میں داخل نہ ہو۔ یہ گویا خدا کے پسندیدہ سماجی اصول کی ایک مادی تمثیل ہے۔ خدا ستاروں اور سیاروں کے ذریعے اس قانون کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کو وہ انسان کی زندگی میں شعوری طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

یعنی یہ کہ ہر آدمی اپنے اپنے دائرے میں عمل کرے، وہ کبھی دوسرے شخص کے دائرے میں داخل نہ ہو۔ قرآن کا یہ اصول ایک مغربی ملک کے قصے میں بہت خوبصورتی کے ساتھ ممثل ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس ملک کو سیاسی آزادی حاصل ہوئی تو ایک شخص خوشی کے ساتھ سڑک پر نکلا۔ وہ اپنا ہاتھ زور زور سے ہلاتا ہوا سڑک پر چل رہا تھا۔

اتنے میں اس کا ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر کہا کہ تم نے میری ناک پر کیوں مارا؟ آدمی نے جواب دیا کہ آج میرا ملک آزاد ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔

راہگیر نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins. اس دنیا میں ہر آدمی عمل کے لیے آزاد ہے، مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے محدود دائرے میں عمل کرے، وہ دوسرے کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اپنی آزادی کا استعمال کرے۔

یہ خدائی اخلاقیات کی ایک دفعہ ہے۔ قرآن میں لفظی طور پر اس کا حکم دیا گیا ہے، اور آسمان کے ستاروں اور سیاروں کی گردش کو اپنے اپنے مدار کا پابند بنا کر اس اخلاقی اصول کا مظاہرہ یعنی demonstration کیا جا رہا ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.