Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Kainaat ki gawahi

Urdu · 12 min

کائنات کی گواہی سورہ الانعام میں منکرین کے اس مطالبے کا ذکر ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے اس وعدے میں سچے ہو کہ جو پیغام تم لائے ہو وہ خدا کی طرف سے ہے تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ فرمایا کہ ایمان کا مدار معجز نما واقعات پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی کی آنکھ کھلی ہوئی ہو اور وہ نشانیوں سے سبق لینا جانتا ہو جس میں یہ صلاحیت زندہ ہو۔ اس کو نظر آئے گا کہ یہاں وہ معجزہ پہلے سے نہایت وسیع پیمانے پر موجود ہے جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ آخر اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ساری کائنات اپنے تمام اجزاء سمیت اس پیغام کی سچائی کی تصدیق کر رہی ہے جس کی طرف خدا کا رسول بلا رہا ہے؟

اور اگر آدمی نے اپنے آپ کو اندھا بنا رکھا ہو، وہ واقعات سے سبق لینے کی کوشش نہ کرتا ہو، تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی کارآمد نہیں ہو سکتا۔ سورہ نمبر 6 آیت 35 تا 40۔ اس سلسلے میں ان دیگر مخلوقات یعنی چڑیوں اور جانوروں کی مثال دی گئی ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا پائی جاتی ہیں۔ دوسری جگہ زمین و آسمان کو بھی اس مثال میں شامل کیا گیا ہے۔

بنی اسرائیل سورہ نمبر 17 آیت 44۔ یعنی اگر تم غور کرو تو تمہارے لیے کافی سامان عبرت و نصیحت کا ان کے اندر موجود ہے، کیونکہ یہ سب بھی تمہاری طرح مخلوقات ہیں۔ ان کو بھی اپنی زندگی میں ایک ڈھنگ اختیار کرنا ہے جس طرح تم کو اختیار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ مگر تمہارے مقابلے میں عالم موجودات کا بے حد بڑا حصہ ہونے کے باوجود ان کا معاملہ مکمل طور پر تم سے مختلف ہے۔

وہ ایک ہی مقررہ نقشے پر کروڑوں برس سے چل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے مقرر نقشے سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتا۔ یہ صرف انسان ہے جو ایک مقرر نقشے کو قبول نہیں کرتا۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنی من مانی راہوں پر دوڑتا رہے۔

رسول کا مطالبہ تم سے کیا ہے؟ یہی تو ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق و مالک ہے۔ تمہارے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم خودسری اور خود رائی کو چھوڑ دو اور اپنے خالق و مالک کے تابع ہو جاؤ۔ غور کرو تو اس دعوت کے حق ہونے پر تمام زمین و آسمان اور تمام حیوانات گواہی دے رہے ہیں۔

النور سورہ نمبر 24 آیت 41۔ کیونکہ جس دنیا میں تم ہو، جب اس کا وسیع تر حصہ خودسری کے بجائے پابندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے، تو تم اس کا بے حد مختصر حصہ ہو کر اس کے خلاف رویہ اپنانے میں حق بجانب کیسے ہو سکتے ہو؟ عظیم الشان کائنات کا ہر جز، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، وہی کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہیے۔ سب اپنے ایک ہی متعین راستے پر اتنی صحت کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی عزیز و علیم نے ان کو بزور اس کا پابند کر رکھا ہے۔

یاسین سورہ نمبر 36 آیت 38۔ اتنی بڑی کائنات میں انسان کا الگ راستہ اختیار کرنا بتا رہا ہے کہ انحراف انسان کی طرف ہے، نہ کہ بقیہ کائنات کی طرف۔ ال عمران سورہ نمبر تین آیت 83۔ ساری کائنات اپنے لا تعداد اجزاء کے ساتھ انتہائی متوافق طور پر، یعنی پروپورشنٹلی، حرکت کرتی ہے۔

ان میں کبھی باہم ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو آپس میں ٹکراؤ کرتا ہے۔ تمام کائنات اپنی ناقابل قیاس سرگرمیوں کے ساتھ ہمیشہ نفع بخش انجام کی طرف جاتی ہے۔ مگر انسان ایسی کارروائیاں کرتا ہے جو تباہی اور بربادی پیدا کرنے والی ہوں۔

دو قسم کے پانی اپنی اپنی حد مقرر کیے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کی حد کو نہیں توڑتا۔ حتیٰ کہ سانڈوں کا گروہ بھی اپنے اپنے حدود کو متعین کر لیتا ہے۔ ہر سانڈ اپنی حد کے اندر کھاتا پیتا ہے، دوسرے سانڈ کی حد میں نہیں گھستا۔ مگر انسان کسی حد بندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

شہد کی مکھیاں حد درجہ نظم اور تقسیم کار کے ساتھ اپنی تعمیری سرگرمیاں انجام دیتی ہیں، مگر انسان نظم و ضبط کو توڑتا ہے۔ چیونٹیاں اور چڑیاں رزق کی فراہمی میں اپنی محنت پر بھروسہ کرتی ہیں۔ وہ کسی سے چھین جھپٹ نہیں کرتی، مگر انسان دوسرے انسان کا استحصال کرتا ہے۔ کوئی شیر یا بھیڑیا اپنی نوک کے جانور کو نہیں پھاڑتا، مگر انسان انسان کا خون بہاتا ہے۔

کوئی جانور، حتیٰ کہ سانپ بچھو بھی، بلاوجہ کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ وہ حملہ کرتے ہیں تو صرف اپنے بچاؤ کے لیے، مگر انسان دوسرے انسانوں کے اوپر ایک طرفہ جارحانہ کارروائیاں کرتا ہے۔ تمام جانور بقدر ضرورت کھاتے ہیں، بقدر ضرورت جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں، اور بقدر ضرورت گھر بناتے ہیں۔ مگر انسان ہر چیز میں اسراف اور بے راہ روی اور غیر ضروری تکلفات کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔

تمام جانور صرف اپنے دائرہ کار میں اپنے کو مصروف رکھتے ہیں، مگر انسان اپنے دائرہ عمل کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرے میں مداخلت کرتا ہے۔ ایک چرواہے کے پچاس بکریاں جنگل میں چرتے ہوئے ہزاروں بھیڑ بکریوں سے مل جائیں، اور اس کے بعد ان کا چرواہا ایک مقام پر کھڑے ہو کر آواز دے تو اس کی تمام بکریاں نکل نکل کر اس کے پاس آ جاتی ہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا جائے تو وہ سننے اور سمجھنے کے بعد بھی اس پکار کی طرف نہیں دوڑتا۔ انسان ساری کائنات کا اس سے بھی کہیں زیادہ چھوٹا حصہ ہے۔

جتنا پوری زمین کے مقابلے میں سرسوں کا ایک دانہ، پھر انسان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ جو وسیع تر کائنات کا راستہ ہے۔ اگر اتنی عظیم الشان دلیل کے باوجود آدمی اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کرتا ہے تو موجودہ کائنات میں وہ اپنے آپ کو بے استحقاق ثابت کر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کا انجام صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اس کو کائنات میں بے جگہ کر دیا جائے۔

کائنات کی تمام چیزیں اس کے ساتھ مساعدت کرنے سے انکار کر دیں۔ تمام کائناتی نعمتوں کو اس سے چھین کر اس کو ابدی محرومی میں ڈال دیا جائے۔ آدمی جس کائنات کا ہمسفر بننے کے لیے تیار نہیں، اس کو کیا حق ہے کہ اس کائنات کی چیزوں سے فائدہ اٹھائے؟ اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ انجام ہونا چاہیے کہ کائنات کو اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ صرف ان انسانوں کو دے دیا جائے جو اس کے ہمسفر بنے، جنہوں نے اپنے خالق و مالک کی تابعداری اسی طرح کی جس طرح ساری کائنات کر رہی تھی۔

اس کے سوا وہ انسان جنہوں نے بغاوت اور خود رائی کا طریقہ اختیار کیا، ان کو نہ اس دنیا کی روشنی میں حصے دار بننے کا حق ہے اور نہ اس کی ہوا اور پانی میں۔ وہ اس دنیا میں نہ اپنے لیے مکان بنانے کا حق رکھتے اور نہ کھانے اور آرام کرنے کا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ کائنات اپنے جنتی امکانات کے ساتھ صرف پہلے گروہ کے حصے میں آئے اور دوسرے گروہ کو یہاں کی تمام بہترین چیزوں سے محروم کر کے چھوڑ دیا جائے۔ کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 155۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.