← Azmat-e-Qur'anAzmat-e-Qur'an
Daur-e-jadid me ihya-e-islam
Urdu · 32 min
دورِ جدید میں احیائے اسلام، موجودہ زمانے میں تاریخ دوبارہ وہیں پہنچ گئی ہے جہاں وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں پہنچی تھی۔ قدیم زمانے میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ اس طرح ہوا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر شخص جو انسانی نسل میں پیدا ہوتا وہ مشرک پیدا ہوتا۔ اب پچھلے چند سو سال کے عمل کے نتیجے میں ملحدانہ افکار انسان کے اوپر غالب آ گئے ہیں۔ علم و عمل کے ہر شعبے میں الحادی طرزِ فکر اس طرح چھا گیا ہے کہ دوبارہ تاریخِ انسانی میں الحاد کا تسلسل قائم ہو گیا ہے۔
اب ہر شخص جو پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں پیدا ہو، وہ ملحدانہ افکار کے زیرِ اثر پیدا ہوتا ہے۔ الحاد آج کا غالب دین ہے، اور اسلام کا احیاء موجودہ زمانے میں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک الحاد کو فکری غلبے کے مقام سے ہٹایا نہ جائے۔ موجودہ زمانے میں احیائے اسلام کو ممکن بنانے کے لیے دوبارہ وہی دونوں طریقے اختیار کرنے ہیں جو پہلے غلبے کے وقت اختیار کیے گئے تھے، یعنی افراد کی تیاری اور مخالفینِ حق کی مغلوبیت۔ پہلا کام ہم کو خود اپنے وسائل کے تحت انجام دینا ہے۔
جہاں تک دوسرے کام کا تعلق ہے، اس کو موجودہ زمانے میں دوبارہ خدا نے اسی طرح بہت بڑے پیمانے پر انجام دے دیا ہے، جس طرح اس نے دورِ اول میں انجام دیا تھا۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔ نمبر 1: موجودہ زمانے میں احیائے اسلام کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے پہلے افرادِ کار کی ضرورت ہے۔ گویا اب دوبارہ ایک نئے انداز سے وہی چیز درکار ہے جو حضرت ابراہیم کے منصوبے میں مطلوب تھی، یعنی حقیقی معنوں میں ایک مسلم گروہ کی تیاری۔
موجودہ زمانے میں اسلامی احیاء کی مہم چلانے کے لیے جو افراد درکار ہیں، وہ عام قسم کے مسلمان نہیں ہیں، بلکہ ایسے لوگ ہیں جن کے لیے اسلام ایک دریافت، یعنی ڈسکوری، بن گیا ہو۔ وہ واقعہ جو سب سے زیادہ کسی انسان کو متحرک کرتا ہے، وہ یہی دریافت کا واقعہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کو دریافت کے درجے میں پائے تو اچانک اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے: یقین، حوصلہ، عزم، فیاضی، قربانی، اتحاد، غرض وہ تمام اوصاف جو کوئی بڑا کام کرنے کے لیے درکار ہیں۔ وہ سب دریافت کی زمین پر پیدا ہوتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں مغربی اقوام میں جو اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں، وہ سب اسی دریافت کا نتیجہ ہیں۔ مغربی قوموں نے روایتی دنیا کے مقابلے میں سائنسی دنیا کو دریافت کیا ہے۔ یہی دریافت کا احساس ہے جس نے مغربی قوموں میں وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کر دیے جو آج ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ قرنِ اول میں اصحابِ رسول کا معاملہ بھی یہی تھا۔
ان کو خدا کا دین بطور دریافت کے ملا تھا۔ انہوں نے جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کو پایا تھا۔ انہوں نے شرک کے مقابلے میں توحید کو دریافت کیا تھا۔ ان پر دنیا کے مقابلے میں آخرت کا انکشاف ہوا تھا۔
یہی چیز تھی جس نے ان کے اندر وہ غیر معمولی اوصاف پیدا کر دیے جن کو آج ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ آج اگر اسلامی احیاء کی مہم کو مؤثر طور پر چلانا ہے تو دوبارہ ایسے انسان پیدا کرنے ہوں گے جنہیں اسلام دریافت کے طور پر ملا ہو، نہ کہ محض نسلی وراثت کے طور پر۔ نمبر 2: اسلام 1400 سال پہلے شروع ہوا، اس کے بعد اس کی تاریخ بنی۔ تمدنی عظمت اور سیاسی فتوحات کی تاریخ۔
آج جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، وہ اسی تاریخ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جس قوم کی بھی یہ صورتحال ہو، وہ ہمیشہ قریبی تاریخ میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔ وہ تاریخ سے گزر کر ابتدائی اصل تک نہیں پہنچتی۔ یہی معاملہ آج مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اپنا دین تاریخ سے اخذ کر رہے ہیں، نہ کہ حقیقتاً قرآن اور سنتِ رسول سے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آج کے مسلمانوں کے لیے فخر کی چیز بنا ہوا ہے، نہ کہ ذمہ داری کی چیز۔ ان کے افکار و اعمال میں یہ نفسیات اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کو قرآن و سنت میں دیکھیے تو وہ سراسر ذمہ داری اور مسؤولیت کی چیز نظر آئے گی۔ اس کے برعکس، اسلام کو جب اس کی تمدنی تاریخ اور سیاسی واقعات کے آئینے میں دیکھا جائے تو وہ فخر اور عظمت کی چیز معلوم ہونے لگتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی انقلابی تحریکیں اسی جذبۂ فخر کے تحت اٹھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقتی ہنگامے پیدا کر کے ختم ہو گئیں۔ کیونکہ فخر کا جذبہ نمائش اور ہنگامے کی طرف لے جاتا ہے، اور مسؤولیت کا جذبہ حقیقی اور سنجیدہ عمل کی طرف۔ اسلامی احیاء کی مہم کو مؤثر طور پر چلانے کے لیے وہ افراد درکار ہیں جنہوں نے اسلام کو قرآن و حدیث کی ابتدائی تعلیمات سے اخذ کیا ہو، نہ کہ بعد کو بننے والی تمدنی اور سیاسی تاریخ سے۔
قرآن و حدیث سے دین کو اخذ کرنے والے لوگ ہی سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کے تحت کوئی حقیقی مہم چلا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ تاریخ سے اپنا دین اخذ کریں، وہ صرف اپنے فخر کا جھنڈا بلند کریں گے۔ وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا ثبوت نہیں دے سکتے۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک شکست خوردہ قوم بنے ہوئے ہیں۔
پوری مسلم دنیا پر ایک قسم کا احساسِ مظلومی، یعنی پرسیکیوشن کمپلیکس، چھایا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی تاریخ سے دین کو اخذ کرنا ہے۔ ہم نے تاریخی عظمت کو دین سمجھا۔ ہم نے لال قلعہ اور غرناطہ میں اپنی اسلامیت کا تشخص دریافت کیا۔
چونکہ موجودہ زمانے میں دوسری قوموں نے ہم سے یہ چیزیں چھین لیں، اس لیے ہم فریاد و ماتم میں مشغول ہو گئے۔ اگر ہم ہدایتِ ربانی کو دین سمجھتے تو ہم کبھی بھی احساسِ محرومی کا شکار نہ ہوتے، کیونکہ وہ ایسی چیز ہے جس کو کوئی طاقت ہم سے کبھی چھین نہیں سکتی۔ ہم نے چھن جانے والی چیزوں کو اسلام سمجھا، اس لیے جب وہ چھن گئی تو ہم شکایت اور محرومی کا پیکر بن کر رہ گئے۔ اگر ہم نہ چھننے والی چیز کو اسلام سمجھتے تو ہمارا کبھی وہ حال نہ ہوتا جو آج ہر طرف نظر آ رہا ہے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ جو زیادہ بڑی چیز ہمارے پاس ابھی تک بغیر چھنی ہوئی محفوظ ہے، اس کا ہمیں شعور نہیں، اور جو چھوٹی چیز ہم سے چھین گئی ہے، اس کے لیے ہم شکایت اور احتجاج میں مصروف ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان دوسری قوموں سے لڑائی جھگڑے میں مصروف ہیں۔ وہ اسلام کو اپنی قومی عظمت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ انہیں اس عظمت کو چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کے خلاف وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔
کہیں یہ لڑائی الفاظ کے ذریعے ہو رہی ہے، اور کہیں ہتھیاروں کے ذریعے۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کے پورے رویّے کو منفی بنا دیا ہے۔ اسلام اگر ان کو ربانی ہدایت کے طور پر ملتا تو وہ محسوس کرتے کہ ان کے پاس دوسری قوموں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ وہ اپنے کو دینے والا سمجھتے اور دوسرے کو لینے والا۔
جبکہ موجودہ حالت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ چھنے ہوئے لوگ ہیں، اور دوسرے چھیننے والے لوگ۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان حقیقی رشتہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر تاریخی اسلام کو اسلام سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قومیں ہمارے لیے صرف حریف اور رقیب بن کر رہ گئی ہیں۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان جب تک یہ حریفانہ فضا باقی ہے، اسلامی احیاء کا کوئی حقیقی کام شروع نہیں کیا جا سکتا۔
پہلے ہی مرحلے میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام مسلمانوں کو حریفانہ نفسیات سے پاک کر دیا جائے۔ مگر کم سے کم ایک ایسی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جس کے افراد اپنی حد تک اس ذہنی فضا سے نکل چکے ہوں، جن کے اندر ایسی فکری تبدیلی آ چکی ہو کہ دوسری قوموں کو وہ اپنا مدعو سمجھیں، نہ کہ مادی حریف اور قومی رقیب۔ یہ بظاہر سادہ سی بات انتہائی مشکل بات ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔
اپنے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ ہم ایک طرفہ طور پر تمام شکایتوں کو بھلا دیں۔ ہر قسم کے مادی نقصانات کو گوارا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ داعی اور مدعو کا رشتہ داعی کی طرف سے ایک طرفہ قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں بلاشبہ یہ سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔
یہ اور اس طرح کے دوسرے اوصاف ہیں جو ان لوگوں میں ہونا ضروری ہیں جو موجودہ زمانے میں احیائے اسلام کی مہم کے لیے اٹھیں۔ ایسے افراد تیار کرنے کے لیے موجودہ زمانے میں دوبارہ اسی قسم کا ایک منصوبہ درکار ہے جو دورِ اول میں خیرِ امت کے اخراج (عالی عمران، سورہ نمبر 3، آیت 110) کے لیے زیرِ عمل لایا گیا تھا۔ موجودہ زمانے کے اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج یہ ضرورت ہے کہ جدید طرز کی ایک اعلیٰ تربیت گاہ قائم کی جائے۔ یہ تربیت گاہ تمدنی ماحول سے الگ، قدرت کی بے آمیز فضا میں قائم ہونی چاہیے۔
یہ تربیت گاہ گویا دوبارہ قوم کے کچھ اعلیٰ افراد کو وادیِ غیر ذی زرع میں بسانے کے ہم معنی ہوگی۔ مذکورہ تربیت گاہ کو کامیاب طور پر چلانے کے لیے کچھ ایسے ابراہیمی والدین درکار ہیں جو اپنی اولاد کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ ان کی ذہین اولاد کو وقت کے اعلیٰ معاشی مواقع سے محروم کر کے ایک ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جہاں سب کچھ دے کر بھی تعلق باللہ اور فکرِ آخرت کے سوا کوئی اور چیز نہ ملتی ہو۔ اس طرح کی ایک تربیت گاہ، فلپ ہٹی کے مذکورہ الفاظ میں، دوبارہ ایک قسم کی نرسری آف ہیروز بنانے کے ہم معنی ہوگی۔
جب تک اس قسم کے افراد کی ایک قابلِ لحاظ ٹیم تیار نہ ہو جائے، احیائے اسلام کی جانب کوئی حقیقی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس قسم کی تربیت گاہ کا قیام گویا جدید زمانے کے لحاظ سے اس آیتِ قرآنی کی تعمیل ہوگی: "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَ تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ" (سورہ نمبر 9، آیت 122)۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا، اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا، تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ یعنی قوم کے کچھ ذہین افراد کو عام ماحول سے الگ کر کے ایک علیحدہ ماحول میں لایا جائے، اور وہاں متعین مدت تک خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں اس کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ موجودہ زمانے میں احیائے اسلام کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلا سکیں۔
وہ اہلِ عالم کے لیے منذر اور مبشر بن سکیں۔ دورِ اول میں اسلامی انقلاب کو ممکن بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اہتمام یہ کیا کہ ایران اور روم کی سلطنتیں، جو اس زمانے میں دینِ توحید کی سب سے بڑی حریف تھیں، ان کو باہم ٹکرا کر اتنا کمزور کر دیا کہ اہلِ اسلام کے لیے ان کو مغلوب کرنا آسان ہو گیا۔ خدا کی یہی مدد موجودہ زمانے کے اہلِ ایمان کے لیے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے، اور وہ ہے کائنات کے بارے میں ایسی معلومات کا سامنے آنا جو دینی حقیقتوں کو معجزاتی سطح پر ثابت کر رہی ہیں۔ قدیم زمانے میں توہماتی طرزِ فکر کا غلبہ تھا۔
اس بنا پر عالمِ کائنات کے بارے میں انسان نے عجیب عجیب بے بنیاد رائے قائم کر رکھی تھیں۔ کائنات کو قرآن میں "عالیٰ رب" یعنی کرشمۂ خدا کہا گیا ہے (سورہ نمبر 55، آیت 30)۔ مگر یہ خدائی کرشمہ توہماتی مفروضوں کے پردے میں چھپا ہوا تھا۔ دورِ اول کے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ مظاہرِ فطرت جو اس سے پہلے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے، وہ انسان کے لیے تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئے۔
اس طرح تاریخِ انسانی میں پہلی بار واقعاتِ فطرت کا خالص علمی انداز میں جاننے کا ذہن پیدا ہوا۔ یہ ذہن مسلسل بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ یورپ پہنچا۔ یہاں ترقی پا کر وہ اس انقلاب کا سبب بنا جس کو موجودہ زمانے میں "سائنسی انقلاب" کہا جاتا ہے۔ سائنس نے گویا توہماتی پردے کو ہٹا کر کرشمۂ خدا کا کرشمۂ خدا ہونا ثابت کر دیا۔
اس نے مظاہرِ فطرت کو معبود کے مقام سے ہٹا کر مخلوق کے مقام پر رکھ دیا۔ حتیٰ کہ یہ نوبت آئی کہ چاند، جس کو قدیم انسان معبود سمجھ کر پوجتا تھا، اس پر اس نے اپنے پاؤں رکھ دیے اور وہاں اپنی مشینیں اتار دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس نے جو نئے دلائل فراہم کیے ہیں، ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو دینِ توحید کی دعوت کو اس برتر سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے جس کے لیے اس سے پہلے معجزات ظاہر کیے جاتے تھے۔ زمین و آسمان میں جو چیزیں ہیں، وہ اس لیے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آدمی خدا کو یاد کرے۔
مگر انسان نے خود انہی چیزوں کو خدا سمجھ لیا۔ یہ ایک قسم کا انحراف تھا۔ اسی قسم کا انحراف موجودہ زمانے میں سائنسی معلومات کے بارے میں پیش آ رہا ہے۔ سائنسی تحقیق سے جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ سب خدا کی خدائی کا ثبوت ہیں۔
وہ انسان کو خدا کی یاد دلانے والے ہیں۔ مگر موجودہ زمانے کے ملحد مفکرین نے دوبارہ ایک انحراف کیا۔ انہوں نے سائنسی حقیقتوں کو غلط رخ دے کر یہ کیا کہ جس چیز سے خدا کا ثبوت نکل رہا تھا، اس کو انہوں نے اس بات کا ثبوت بنا دیا کہ یہاں کوئی خدا نہیں ہے، بلکہ سارا نظام ایک مشینی عمل کے تحت اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے، وہ ایک حد درجہ بامعنی اور بامقصد کائنات ہے۔
جدید دریافتوں نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا منتشر مادے کا بے معنی انبار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کا منظم کارخانہ ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں بے حد ہم آہنگی کے ساتھ ایک ایسے رخ پر سفر کرتی ہیں جو ہمیشہ بامقصد نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ کائنات میں نظم اور مقصدیت کی دریافت واضح طور پر ناظم کی موجودگی کا اقرار ہے۔ وہ کائنات کے پیچھے خدائی کارفرمائی کا یقینی ثبوت ہے۔
مگر موجودہ زمانے کے لیے، مگر موجودہ زمانے کے بے خدا مفکرین نے یہ کیا کہ اس سائنسی دریافت کا رخ الحاد کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ثابت ہوا ہے، وہ بجائے خود واقعہ ہے۔ مگر اس کا کیا ثبوت کہ وہ کوئی نتیجہ یعنی اینڈ ہے؟ عین ممکن ہے کہ وہ محض ایک اثر یعنی ایفیکٹ ہو۔
یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں کوئی ذہن ہو جو شعور اور ارادے کے تحت بالقصد واقعات کو ایک خاص انجام کی طرف لے جا رہا ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ واقعات کے بے شعور عمل کے اثر سے اپنے آپ ایک چیز برآمد ہو رہی ہو جو اتفاق سے بامعنی بھی ہو۔ یہ بے معنی توجیہ خود ایک ارادے کے تحت وجود میں آئی ہے۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ کائنات کو بلا ارادہ کارفرمائی مان لیا جائے۔
ایک طرف سائنس کے ظہور کے بعد ملحد مفکرین نے بہت بڑے پیمانے پر سائنس کو الحاد کا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلے میں مذہبی مفکرین کی کوششیں اتنی ہی کم ہیں۔ پچھلے سو سال کے اندر ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ علمی کتابیں چھپی ہیں، جن کے ذریعے سائنس سے غلط طور پر الحاد کو برآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف دینی مفکرین کی صف میں چند ہی قابلِ ذکر علمی کوششوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔
ان میں سے ایک قابلِ قدر کتاب سر جیمز جینز کی "پراسرار کائنات" یعنی "دا مسٹیریس یونیورس" ہے۔ اس کتاب میں لائق مصنف نے نظریۂ تعلیل یعنی پرنسپل آف کازیشن کو خالص سائنسی استدلال کے ذریعے منہدم کر دیا ہے، جس کو موجودہ زمانے میں خدا کا مشینی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ موجودہ صدی کے نصف آخر میں بے شمار نئے حقائق انسان کے علم میں آئے۔ موجودہ صدی کے نصف آخر میں بے شمار نئے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں، جو نہایت برتر سطح پر دینی عقائد کی حقانیت کو ثابت کر رہے ہیں۔
مگر ابھی تک کوئی ایسا دینی مفکر سامنے نہیں آیا جو ان سائنسی معلومات کو دینی صداقتوں کے اثبات کے طور پر مدون کرے۔ اگر یہ کام اعلیٰ سطح پر ہو سکے تو وہ دعوتِ توحید کے حق میں ایک علمی معجزہ ظاہر کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں جتنے پیغمبر آئے، سب کی پیغمبری پر ان کے ہم عصر مخاطبین نے شک کیا۔ (ہود، سورہ نمبر 11، آیت 62) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ابتداء میں یہی صورت پیش آئی کہ آپ کے مخاطبینِ اول آپ کی نبوت پر شک کرتے رہے۔
(صاد، سورہ نمبر 38، آیت 8) تاہم اسی کے ساتھ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ آپ کو مقامِ محمود پر کھڑا کیا جائے گا۔ (عَسٰٰي يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) (سورہ نمبر 17، آیت 79) اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی نبوت شک کے مرحلے سے گزر کر ایک ایسے مرحلے میں پہنچے گی جب وہ مکمل طور پر تسلیم شدہ نبوت بن جائے۔ محمود یعنی قابلِ تعریف ہونا تسلیم و اعتراف کا آخری درجہ ہے۔ ہر نبی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوم کے اندر ایک ایسی شخصیت ہوتا ہے جس کو لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
معلوم نہیں یہ واقعتاً پیغمبر ہیں یا صرف دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس طرح کے خیالات لوگوں کے ذہن میں گھومتے اور آخر وقت تک ختم نہیں ہو پاتے۔ پیغمبری اپنے ابتدائی دور میں صرف دعویٰ ہوتی ہے۔ وہ اپنے دعوے کا ایسا ثبوت نہیں ہوتی جس کو ماننے پر لوگ مجبور ہو جائیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر آیا، وہ اپنی قوم کی نظر میں ایک نزاعی شخصیت بن گیا۔ کیونکہ پیغمبر کی صداقت کو جاننے کے لیے لوگوں کے پاس اس وقت اس کا صرف دعویٰ تھا۔ اس کے حق میں مسلمہ تاریخی دلائل ابھی جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس قسم کے دلائل ہمیشہ بعد کو وجود میں آتے ہیں۔
مگر عام طور پر انبیاء کا معاملہ اس کے بعد کے مرحلے تک پہنچ نہ سکا۔ دوسرے پیغمبر نزاعی دور میں شروع ہوئے اور نزاعی دور ہی میں ان کا اختتام ہو گیا۔ کیونکہ ان کے بعد ان کے پیغام کی پشت پر ایسا گروہ جمع نہ ہو سکا جو ان کی سیرت اور ان کے کلام کو محفوظ رکھ سکے۔ جو ان کی سیرت اور ان کے کلام کو مکمل طور پر محفوظ رکھ سکے۔
دوسرے انبیاء اپنے زمانے میں لوگوں کے لیے اس لیے نزاعی تھے کہ وہ ابھی اپنی تاریخ کے آغاز میں تھے۔ بعد کے دور میں وہ دوبارہ نزاعی ہو گئے۔ کیونکہ بعد کو ان کی جو تاریخ بنی وہ انسانی علم کے معیار پر تسلیم شدہ نہ تھی۔ نبیوں کی فہرست میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنا ہے۔
آپ نے اگرچہ دوسرے نبیوں کی طرح اپنی نبوت کا آغاز نزاعی دور سے کیا، مگر بعد کے دور میں آپ کو اتنی غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی کہ زمین کے بڑے حصے میں آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں آپ کے دین نے ایشیا اور افریقہ کی بڑی طاقتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ پیغمبر آخر الزماں کو جتنے چیلنج پیش آئے، سب میں وہ فاتح رہے۔ آپ نے جتنی پیشن گوئیاں کیں، سب مکمل طور پر پوری ہوئیں۔
جو طاقت بھی آپ سے ٹکرائی، وہ پاش پاش ہو گئی۔ آپ کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر معاصر تاریخ میں آپ کا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ ساری تاریخِ انبیاء میں آپ کو یہ غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ کی نبوت نزاعی مرحلے سے نکل کر محمودی مرحلے میں پہنچ گئی۔ آپ کا کلام اور آپ کا کارنامہ دونوں اس طرح محفوظ حالت میں باقی رہے کہ کسی کے لیے آپ کے بارے میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
موجودہ زمانے میں دینِ حق کے داعیوں کو ایک ایسا خصوصی موقع یعنی ایڈوانٹیج حاصل ہے جو تاریخ کے پچھلے ادوار میں کسی داعی گروہ کو حاصل نہ تھا۔ وہ یہ کہ ہم آج اس حیثیت میں ہیں کہ توحید کی دعوت کو مسلمہ یعنی اسٹیبلشڈ نبوت کی سطح پر پیش کر سکیں۔ جبکہ اس سے پہلے توحید کی دعوت صرف نزاعی یعنی کنٹروورشل نبوت کی سطح پر پیش کی جا سکتی تھی۔ دوسری امتیں اگر نبوتِ نزاعی کی وارث تھیں تو ہم نبوتِ محمودی کے وارث ہیں۔
مسلمانوں کو اقوامِ عالم کے سامنے شہادتِ حق کا جو کام انجام دینا ہے، اس کے لیے خدا نے آج ہر قسم کے موافق مواقع مکمل طور پر کھول دیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اس کارِ شہادت کو انجام نہ دیں یا شہادتِ دین کے نام پر قومی جھگڑے کھڑے کرنے لگیں تو مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کے دن وہ رب العالمین کے سامنے کیوں کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔ نومبر 1983 عیسوی کے آخری ہفتے میں لاہور میں قرآنی سیمینار ہوا۔ اس موقع پر راقب الحروف کو ایک مقالہ پڑھنے کی دعوت دی گئی۔
زیرِ نظر مقالہ اسی سیمینار میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 143۔