Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Dakhili tazaad

Urdu · 3 min

داخلی تضاد کلام میں داخلی تضاد حقیقتاً متکلم کی شخصیت میں داخلی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ داخلی تضاد سے بچنے کے لیے دو چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں: ایک کامل علم اور دوسرے کامل موضوعیت، یعنی آبجیکٹیویٹی۔ کوئی انسان ان دونوں کمیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے انسان کا کلام داخلی تضاد سے پاک بھی نہیں ہوتا۔

یہ صرف خدا ہے جو تمام کمیوں سے پاک ہے۔ اس لیے صرف خدا کا کلام ہی وہ کلام ہے جو داخلی تضاد سے پوری طرح خالی ہے۔ انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے بہت سی باتوں کو اپنی عقل کی گرفت میں نہیں لا سکتا۔ اس لیے قیاسی طور پر کبھی وہ ایک بات کہتا ہے اور کبھی دوسری بات۔

ہر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ ناپختہ عمر سے پختہ عمر کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناپختہ عمر میں جو بات کہتا ہے، پختہ عمر کو پہنچ کر وہ خود اس کے خلاف بولنے لگتا ہے۔ ہر آدمی کا علم اور تجربہ بڑھتا رہتا ہے۔ اس بنا پر اس کا ابتدائی کلام کچھ ہو جاتا ہے اور آخری کلام کچھ۔

انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ اس کی واقفیت ابھی مکمل نہیں ہوتی کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ اپنی نامکمل واقفیت کی بنا پر ایسی بات کہتا ہے جو اس کے بعد درست ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح آدمی کو کسی سے دوستی ہوتی ہے اور کسی سے دشمنی۔

وہ کسی سے محبت کرتا ہے اور کسی سے نفرت۔ وہ کسی کے بارے میں سادہ ذہن کے تحت سوچتا ہے اور کسی کے بارے میں ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان پر کبھی غم کا لمحہ گزرتا ہے اور کبھی خوشی کا۔ وہ کبھی ایک ترنگ، یعنی ایموشن میں ہوتا ہے اور کبھی دوسری ترنگ میں۔

اس بنا پر انسان کے کلام میں یکسانیت نہیں ہوتی۔ وہ کبھی ایک طرح کی بات کہتا ہے اور کبھی دوسری طرح کی بات بولنے لگتا ہے۔ خدا ان تمام کمیوں سے پاک ہے۔ اس لیے اس کا کلام ہمیشہ یکساں ہوتا ہے اور ہر قسم کے تناقص سے خالی بھی۔

کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 18۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.