Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Ilm-e-siyasat

Urdu · 11 min

علمِ سیاست یہی معاملہ فلسفہ سیاسیات کا ہے، یہی معاملہ فلسفہ سیاسیات کا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا 1984 کے مخالا نگار کے الفاظ میں، "سیاسی فلسفہ اور سیاسی اختلافات بنیادی طور پر ایک ہی سوال کے گرد گھومتے ہیں: یہ کہ کس کو کس کے اوپر اقتدار حاصل ہو۔ " Political Philosophy and Political Conflict have evolved, basically around who should have power over whom. انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا، والیوم 14، پیج 697۔

اس میدانِ فکر میں پچھلے 5000 سال سے اعلیٰ ترین انسانی دماغ اپنی کوششیں صرف کر رہے ہیں، اس کے باوجود علمِ سیاسیات کا مربوط نظام بنانے کے لیے وہ چیز دریافت نہ ہو سکی جس کو اسپنوزا نے "علمی بنیاد" یعنی scientific base کہا ہے۔ علمِ سیاسیات میں ایک درجن سے زیادہ مدارسِ فکر پائے جاتے ہیں، تاہم وسیع تقسیم میں وہ صرف 2 ہیں: ایک وہ جو شخصی اقتدار کی وکالت کرتے ہیں، دوسرے وہ جو جمہوری اقتدار کے حامی ہیں۔ ان دونوں ہی پر سخت ترین اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ شخصی اقتدار کے نظریے پر یہ اعتراض واقع ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے اوپر کیوں حاکمانہ اقتدار حاصل ہو۔

چنانچہ وہ کبھی قبولیتِ عام حاصل نہ کر سکا۔ دوسرا نظریہ وہ ہے جس کو جمہوری اقتدار کا نظریہ کہا جاتا ہے؛ عملاً اگرچہ یہ ایک مقبول نظریہ ہے، مگر نظری اور فکری اعتبار سے اس پر سخت ترین شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ جمہوریت یعنی democracy کا نظریہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ تمام انسان آزاد ہیں اور برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ روسو یعنی ژین ژوک روسو کی کتاب "معاہدہ عمرانی یعنی Social Contract" کا پہلا فقرہ یہ ہے: "Man is born free, and everywhere he is in chain.

" انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ ڈیموکریسی ایک یونانی لفظ ہے، اس کے معنی ہیں حکومت بذریعہ عوام، یعنی rule by the people۔ مگر عملاً یہ ناممکن ہے کہ تمام عوام کی حکومت قائم ہو سکے۔ سارے لوگوں پر سارے لوگ آخر کس طرح حکومت کریں گے؟

مزید یہ کہ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سماجی حیوان، یعنی social animal ہے۔ انسان اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے رہے، بلکہ وہ سماجی مجموعے کے ساتھ وابستہ ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں، انسان آزاد نہیں پیدا ہوا ہے؛ انسان ایک سماج کے اندر پیدا ہوتا ہے جو کہ اس کے اوپر پابندیاں عائد کرتا ہے۔ Man is not born free; man is born into society which imposes restraints on him.

جب سارے عوام بیک وقت حکومت نہیں کر سکتے تو عوامی حکومت کا نظام کس طرح بنایا جائے؟ اس سلسلے میں مختلف نظریے پیش کیے گئے۔ سب سے زیادہ مقبول نظریہ روسو کا نظریہ ہے، جس کو اس نے رائے عامہ یعنی general will کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ یہ رائے عامہ حکمران افراد کے انتخاب میں ظاہر ہوتی ہے۔

اس طرح عوام کی حکومت عملاً منتخب افراد کی حکومت بن جاتی ہے۔ عوام کو انتخاب میں ووٹ دینے کی کسی قدر آزادی ہوتی ہے، مگر ووٹ دینے کے بعد وہ دوبارہ اپنے جیسے کچھ افراد کے محکوم بن جاتے ہیں۔ روسو نے اس کا جواب یہ دیا کہ ایک شخص کی خواہش کی پیروی غلامی ہے، مگر خود اپنے مقرر کردہ قانون کی پیروی کرنا آزادی ہے۔ To follow one's impulse is slavery, but to obey the self-prescribed law is liberty.

انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا، والیوم 15، پیج 1172۔ ظاہر ہے کہ یہ جواب ناکافی تھا، چنانچہ اس نظریے کو دوبارہ سخت اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ خوبصورت الفاظ کے باوجود منتخب جمہوریت عملاً منتخب بادشاہت، یعنی elective monarchy، کا دوسرا نام ہے۔ انتخاب کے بعد جمہوری افراد وہی کچھ بن جاتے ہیں جو اس سے پہلے شاہی افراد بنے ہوئے تھے۔ اس طرح تمام سیاسی مفکرین فکری تضاد کا شکار ہیں، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ انہیں نظر نہیں آتا۔

اتحادی طور پر سب کے سب مساواتِ انسانی کو اعلیٰ ترین قدر مانتے ہیں، مگر انسانی مساوات حقیقی معنوں میں نہ شاہی نظام میں حاصل ہوتی اور نہ جمہوری نظام میں۔ شاہی نظام اگر خاندانی بادشاہت ہے تو جمہوری نظام انتخابی بادشاہت۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں شاہی نظام کے خلاف زبردست بغاوت ہوئی، مگر جب شاہی افراد کی محکومی ختم ہو گئی تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان کے لیے دوسرا بدل صرف یہ ہے کہ نمائندہ افراد کی محکومی پر اپنے آپ کو راضی کر لیں۔ دونوں نظاموں میں جو فرق تھا وہ صرف یہ کہ نئے حکمران اپنے آپ کو زمین پر عوام کا نمائندہ کہتے تھے، جبکہ پرانے حکمرانوں کا کہنا تھا کہ وہ زمین پر خدا کے نمائندہ، یعنی representative of God on earth ہیں۔

برٹانی کا کے مخالا نگار نے اس معاملے میں انسان کی ناکامی کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ سیاسی فلسفے کی تاریخ، افلاطون سے لے کر اب تک، ظاہر کرتی ہے کہ جدید سیاسی فلسفہ ابھی تک بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ The history of political philosophy, from Plato until the present day, makes plain that modern political philosophy is still faced with the basic problems. انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا، والیوم 14، پیج 695۔ بادشاہت یا جمہوریت میں اقتدار بادشاہت یا جمہوریت میں اقتدارِ اعلیٰ کا حق انسانوں میں سے کچھ انسان کو دینا پڑتا ہے۔

اس طرح دونوں نظامِ مساوات مساواتِ انسانی کی تردید بن جاتے ہیں۔ جمہوریت عین مساواتِ انسانی ہی کے نام پر پیش کی گئی، مگر وہ اپنے اندرونی تضاد کی وجہ سے برعکس نتیجے کا حامل ثابت ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی سیاسی فلسفہ ہے جو اس دنیا میں فکری تضاد سے خالی ہو سکتا ہے، اور وہ قرآن کا فلسفہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن یہ نظریہ پیش کرتا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورہ نمبر 49 آیت 13۔

اے لوگوں! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔

تمام سیاسی نظریات کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان حاکم اور محکوم کی تقسیم ختم کریں، مگر انسانی نظام میں یہ تقسیم کبھی ختم نہیں ہو سکتی، خواہ جو بھی سیاسی نظام بنایا جائے۔ یہ صورت ہمیشہ باقی رہے گی کہ کچھ لوگ ایک یا دوسرے نام پر حاکم بن جائیں گے، اور بقیہ لوگ محکوم کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ مگر جب خدا کو رب العالمین مان لیا جائے تو یہ تقسیم ایک relative تقسیم ہو جاتی ہے۔ اب ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف انسان۔

اب رب اور عبد کی تقسیم صرف خدا اور انسان کے درمیان رہتی ہے، باقی جہاں تک انسان اور انسان کے درمیان کا معاملہ ہے، سب انسان مساوی طور پر یکساں حیثیت کے مالک ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان حاکم اور محکوم کی تقسیم ختم کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ خدا کو بادشاہِ حقیقی مان کر سب انسان اپنے آپ کو اس کی ماتحتی میں دے دیں۔ یہی واحد فطری نظریہ ہے جو فکری تضاد سے پاک ہے۔ دوسرا کوئی بھی نظریہ فکری تضاد سے خالی نہیں ہو سکتا۔

کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.