← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Nikaah ki hikmat.
Urdu · 7 min
نکاح کی حکمت: جیسا کہ معلوم ہے، عائشہ صدیقہ کا نکاح جب پیغمبر اسلام سے ہوا، اس وقت ان کی عمر 10 سال سے کم تھی۔ نکاح کے بعد وہ پورے مدنی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ رہیں۔ یہ مدنی دور، جو 10 سال پر مشتمل ہے، اسلام کی ابتدائی تاریخ کا سب سے زیادہ پرز واقعات، یعنی ایونٹ فل دور، کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پورے مدنی دور میں وہ مسلسل طور پر پیغمبر اسلام کے ساتھ رہیں، حتیٰ کہ وہ سفر میں بھی آپ کے ساتھ ہوتی تھیں۔
اس طرح یہ 10 سالہ زمانہ عائشہ صدیقہ کے لیے گویا ایک زندہ مدرسے کے ساتھ وابستگی کا زمانہ ہے۔ کم عمری میں عائشہ صدیقہ کا نکاح جب پیغمبر اسلام کے ساتھ ہوا، اس کا اصل مقصد یہی تھا۔ عائشہ صدیقہ اس وقت اپنی عمر کے اس حصے میں تھیں جس کو تشکیلی دور، یعنی فارمیٹیو پیریڈ، کہا جاتا ہے۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً 10 سال کی عمر تک ہر مرد اور عورت کا ذہن بڑی حد تک بن جاتا ہے۔
اس کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ ہو چکی ہوتی ہے کہ بعد کے مرحلے میں اس کو توڑنا بے حد مشکل ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کے والد ابوبکر صدیق نے اس راز کو سمجھا۔ انہوں نے سوچے سمجھے نقشے کے مطابق اپنی ذہین صاحبزادی کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام کے ساتھ کر دیا۔ یہ کام خلیفہ اول ابوبکر صدیق کی کامل رضامندی کے تحت پیش آیا۔
اس میں بیک وقت گہرا اخلاص بھی شامل تھا اور اسی کے ساتھ اعلیٰ ہوشمندی بھی۔ اس نکاح، یا دوسرے لفظوں میں تعلیمی منصوبہ بندی کا وہ نتیجہ سامنے آیا جو پوری انسانی تاریخ میں غالباً واحد مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے نتیجے میں عائشہ صدیقہ جیسی قابل شخصیت تیار ہوئی، جس کو اپنی عمر کے ریسیپٹیو مرحلے میں پیغمبر کامل کی صحبت میں اپنے آپ کو تیار کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح وہ علم نبوت کی مکمل وارث بن گئیں، اور پھر پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد تقریباً 50 سال تک لوگوں کے درمیان علم نبوت کی اشاعت کرتی رہیں۔
وہ گویا پرنٹنگ پریس اور ٹیپ ریکارڈر کے دور سے پہلے پیغمبر اسلام کی ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر بن گئیں۔ نبوت کے علمی فیض رسانی کا یہ سلسلہ عائشہ صدیقہ کے ذریعے پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک جاری رہا۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ ان کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام کے ساتھ ہو گیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا کہ جو عمر پیغمبر اسلام کی تھی تقریباً وہی عمر عائشہ صدیقہ کی بھی ہوتی، تو دونوں کی وفات کسی قدر فرق کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہو جاتی۔
جب پیغمبر اسلام کی زبان بند ہوتی تو عائشہ صدیقہ کی زبان بھی ساتھ ہی بند ہو جاتی، اور علم نبوت کی فیض رسانی کا سلسلہ بھی اچانک ٹوٹ جاتا۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پیغمبر سے اکتساب علم کا یہ معاملہ کسی مرد کے ساتھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک خاتون درکار تھی جو زوجہ کی حیثیت سے مستقل طور پر آپ کے ساتھ رہے۔ مسلسل صحبت کا تعلق صرف زوجہ کے ساتھ ہو سکتا تھا، نہ کہ کسی عام مرد کے ساتھ۔
ان مصلحتوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو عائشہ صدیقہ کا مذکورہ نکاح ایک ایسا دور رس منصوبہ تھا جس کا فائدہ قیامت تک کے لیے پوری انسانیت کو حاصل ہوا۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے، اور اس پر غیر جانبدارانہ انداز سے رائے قائم کی جائے، تو یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جو ہوا وہی ہو سکتا تھا۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے کوئی دوسرا متبادل سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ دین اسلام کا اصل ماخذ قرآن و حدیث ہے۔
قرآن و حدیث کو اسلام کا متن، یعنی ٹیکسٹ، کہہ سکتے ہیں۔ یہ متن گویا دین اسلام کا لفظی بیان، یعنی لٹرل سٹیٹمنٹ ہے۔ جو آدمی یہ جاننا چاہے کہ اسلام کیا ہے، وہ قرآن و حدیث کے مطالعے سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ تاہم ایک اور چیز ہے جس کی دین میں بے حد اہمیت ہے، اور وہ صحبت ہے۔
صحبت کا مطلب مجلس میں خاموش بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ اس میں فکری تبادلہ، انٹلیکچول ایکسچینج، لازمی طور پر شامل ہے۔ حقیقی معنوں میں صحبت یافتہ وہ ہے جو مجلس میں اس طرح شرکت کرے کہ وہ صاحب مجلس سے باقاعدہ استفادہ کر رہا ہو۔ وہ سوال و جواب کی صورت میں اپنے علم کو بڑھا رہا ہو۔ وہ غیر واضح امور کو مزید گفتگو کے ذریعے واضح بنا رہا ہو۔
اور اسی کے ساتھ وہ صاحب مجلس کے تجربے، اس کی روحانیت، اور اس کی خدا رسیدگی سے شخصی فیض حاصل کر رہا ہو۔ صحابہ کرام اسی صحبت رسول کی عملی مثالیں ہیں۔ مگر عائشہ کی صورت میں ایک استثنائی مثال قائم کی گئی جو صحبت کی کامل مثال تھی، جو صحبت کے فوائد کا کامل نمونہ تھی۔ مزید یہ کہ یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ بن گیا جو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک لوگوں کو صحبت کی اہمیت سے آگاہ کرتا رہا۔
مزید یہ کہ یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ بن گیا جو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک لوگوں کو صحبت کی اہمیت سے آگاہ کرتا رہے۔ عائشہ صدیقہ گویا صحبت کی زندہ تفسیر ہیں۔ ان کی زندگی میں صحبت کے اصول نے گویا ایک ادارہ، یعنی انسٹیٹیوشن، کی صورت اختیار کر لی۔ اب اس ادارے کو امت کے اندر مستقل طور پر زندہ رکھنا ہے۔
ہر نسل کے سینیئر افراد کو چاہیے کہ وہ اگلی نسل کے مردوں اور عورتوں کو صحبت کا یہ فیض پہنچاتے رہیں، تاکہ دین اسلام نہ صرف متن، یعنی ٹیکسٹ، کے اعتبار سے محفوظ رہے بلکہ صحبت کے ادارے کی صورت میں اس کا ذہنی اور روحانی فیض بھی ہمیشہ جاری رہے۔ کتاب "عورت: معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔