Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

8-Sabse behtar khazana.

Urdu · 3 min

نمبر 8: "سب سے بہتر خزانہ"۔ عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ آدمی کے لیے بہتر جمع کرنے والا مال کیا ہے؟ نیک عورت کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ موجود نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے۔ عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أخبرك بخيرٍ ما يكنز المرء؟

المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرّته، وإذا أمرها أطاعته، وإذا غاب عنها حفظته." سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ۔ اس حدیث میں عورت کی جو صفات بتائی گئی ہیں وہ کوئی سادہ صفات نہیں ہیں۔ اس حدیث کو پوری طرح اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اس کو اس کے ظاہری الفاظ سے اوپر اٹھ کر دیکھا جائے، جب کہ اس کو زندگی کے زیادہ گہرے پہلوؤں کے ساتھ جوڑ کر سمجھا جائے۔ مرد کے لیے عورت صرف اس کی گھریلو ساتھی نہیں ہے، بلکہ وہ اس کے لیے سب سے بڑے خزانے کی حیثیت رکھتی ہے۔

انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ہو جو سوچنے کے عمل میں اس کے ساتھ شیئر کر سکے، جو پورے معنوں میں اس کا فکری رفیق، انٹلیکچول پارٹنر بن جائے۔ عورت کسی مرد کی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ وہ اس کی ایک قابلِ اعتماد ذہنی رفیق ہے۔

کسی مرد کی بیوی ہی اس کی وہ ساتھی ہے جو اس کو ہر صبح و شام حاصل رہتی ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقہ حیات کو اس اعتبار سے تیار کرے: تعلیم و تربیت کے ذریعے وہ عورت کو اس قابل بنائے کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے شوہر کی ذہنی رفیق، یعنی انٹلیکچول پارٹنر بن سکے۔ اس قسم کی ذہنی رفاقت کے جو فائدے ہیں، انہی میں سے کچھ فائدوں کا ذکر علامتی طور پر مذکورہ حدیث میں ہے۔ کتاب "عورت معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 58۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.