نمبر 6: "بہتر خاتون کون؟ " ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ عورتوں میں سب سے بہتر عورت کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ عورت کہ مرد جب اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور مرد جب کسی کام کے لیے کہے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اپنے نفس اور اپنے مال میں وہ مرد کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔ عن أبي هريرة قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيُّ النساء خيرٌ؟
" قال: "الذي تسرّه إذا نظر، وتعطيه إذا أمر، ولا تخالفه فيما يكره في نفسها وماله." مسند احمد جلد 2 صفحہ 251۔ یہ حدیث اپنے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کے لیے ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے زندگی کے ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں؛ وہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے رازداں ہیں، زندگی کا کاروبار چلانے کے لیے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ایک گاڑی کے دو پہیے کی حیثیت رکھتے ہیں؛ ایسی حالت میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سچے رفیق ثابت ہوں، وہ ایک دوسرے کو خوش رکھنے کا اہتمام کریں، وہ ایک دوسرے کی رعایت کرنے والے ہوں، وہ غیر موجودگی میں بھی ایک دوسرے کے خیرخواہ بنے رہیں۔
دونوں ایک دوسرے کے لیے وہ کریں جو رفیقِ حیات کی حیثیت سے اصولی طور پر انہیں ایک دوسرے کے لیے کرنا چاہیے۔ کتاب "عورت معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 57۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.