نمبر 4: "ہر حال میں خیر"۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کو اس کی پسند کے مطابق ہوگی۔ لا يفرق مؤمنٌ مؤمنةً إن كره منها خلقاً رضي منها آخر.
صحیح مسلم، کتاب الرضا۔ فطرت کی تقسیم کا عام اصول یہ ہے کہ کسی ایک عورت یا کسی ایک مرد کو ساری خوبیاں نہیں دی جاتیں، بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ایک خوبی زیادہ ملتی ہے تو دوسری خوبی میں اس کے ساتھ کمی کر دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت کو اگر ظاہری جسمانی خصوصیات میں زیادہ حصہ ملا ہو تو داخلی خصوصیات میں وہ اسی نسبت سے کم ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک عورت داخلی سیرت میں زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو ظاہری صفات کے اعتبار سے وہ نسبتاً کم ہوگی۔
یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے جس میں بہت کم استثنا پایا جاتا ہے۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں اسی فطری حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: کسی مرد کی بیوی اگر ایسی ہو جو ظاہری صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہ ہو تو اس کو بددل ہونے کی ضرورت نہیں۔ فطرت کے قانون پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی سیرت کے اعتبار سے یقینی طور پر زیادہ بہتر ہوگی۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی زندگی میں صورت کے مقابلے میں سیرت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کتاب "عورت معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.