نمبر 3: شرافت کی پہچان۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کی عزت وہی شخص کرے گا جو شریف ہو، اور عورتوں کو وہی شخص بے عزت کرے گا جو کمینہ ہو۔ ما أكرم النساء إلا كريم، وما أهانهن إلا لئيم. الحدیث: عزت اور مرتبے کے لحاظ سے عورت اور مرد دونوں برابر کا درجہ رکھتے ہیں، مگر زندگی کے نظام میں دونوں کے درمیان تقسیمِ کار کا اصول رکھا گیا ہے۔
مرد پر نسبتاً سخت کام کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے، اور عورت کو مقابلتاً نرم کام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس تقسیمِ کار کی بنا پر عورت اور مرد کی جسمانی بناوٹ میں فرق رکھا گیا ہے۔ مرد جسمانی اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اور عورت جسمانی اعتبار سے نسبتاً غیر قوی ہے۔ اس فرق کی بنا پر مرد کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ عورت کو اپنی چیرہ دستی کا شکار بنا سکے۔
مگر خدا کے نزدیک یہ مرد کے لیے ایک امتحان کا پرچہ ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ جسمانی اعتبار سے قوی ہونے کے باوجود عورت کا پورا احترام کرے۔ خدا کی شریعت کا اصول یہ ہے کہ شریف انسان وہ ہے جو کمزور کے مقابلے میں شریف ثابت ہو۔ وہ انسان ایک کمینہ انسان ہے جو کسی کو کمزور پا کر اس کو اپنی زیادتی کا نشانہ بنانے لگے۔
کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 55۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.