نمبر 39، نفسِ مطمئنہ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ جنتی مردوں اور جنتی عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا: "اے نفسِ مطمئن، چل اپنے رب کی طرف؛ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں، اور داخل ہو میری جنت میں۔ " الفجر 27:33۔
اس آیت میں نفسِ مطمئن ایک عام لفظ ہے، اس سے مرد اور عورت دونوں مراد ہیں۔ نفسِ مطمئن کا مطلب ہے مطمئن روح، یا نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک روح، کمپلیکس فری سول۔ جنت میں داخلے کے مستحق صرف وہ عورت اور مرد قرار پائیں گے جو دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں کہ ہر حال میں وہ اعتدال پر قائم رہیں۔ وہ خوشحالی میں مغرور نہ بنیں، اور مفلسی میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔
وہ اقتدار کی حالت میں بھی تواضع کے اصول پر قائم رہیں، اور بے اقتدار کی حالت میں بھی۔ انہیں فائدہ ہو یا نقصان، انہیں عزت ملے یا بے عزتی، وہ کامیاب ہوں یا ناکام، ہر حال میں وہ یکساں طور پر خدا کے پرستار بنے رہیں۔ زندگی کا کوئی اتار اور چڑھاؤ انہیں سچائی اور انصاف کے راستے سے ہٹانے والا نہ ہو۔ ایسے ہی عورت اور مرد خدا کی نظر میں نفسِ مطمئن ہیں، اور جو مرد اور عورت اس معیار پر پورے اتریں، وہی خدا کے مطلوب بندے قرار پائیں گے۔
کتاب عورت معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.