نمبر 20: پردے کا قانون۔ قرآن میں خواتین کے لیے پردے کا قانون بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: "اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر، یا اپنے باپ پر، یا اپنے شوہر کے باپ پر، یا اپنے بیٹوں پر، یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر، یا اپنے بھائیوں پر، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر، یا اپنی عورتوں پر، یا اپنے مملوک پر، یا زیرِ دست مردوں پر جو کچھ غرض نہیں رکھتے، یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہوں۔ وہ اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کی مخفی زینت معلوم ہو جائے۔ اور اے ایمان والو!
تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ " النور 31۔ قرآن کی ان آیتوں میں خواتین کے پردے کا وہ حکم بتایا گیا ہے جس کو ستر کہا جاتا ہے، یعنی اپنے جسم کے کسی حصے کا چھپانا ضروری ہے اور کس حصے کو کھولنے کی اجازت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کا پورا بدن ڈھیلے اور سادہ کپڑوں میں ملبوس ہونا چاہیے، تاہم اس کلیے میں "برِّ بنائے ضرورت" ایک استثنا ہے۔
یہ استثنا آیت کے لفظ "إلا ما ظهر منها" سے نکلتا ہے۔ سورہ النور کی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں: "حدیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفّین یعنی ہتھیلیاں 'إلا ما ظهر منها' میں داخل ہیں، کیونکہ بہت سی ضروریات دینی و دنیاوی ان کے کھلا رکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاً حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہاء نے قدمین کو بھی انہی اعضاء پر قیاس کیا ہے، اور جب یہ اعضاء مستثنیٰ ہوئے تو ان کے متعلقات مثلاً انگوٹھی، چھلا یا مہندی، کاجل وغیرہ کو بھی استثنا میں داخل ماننا پڑے گا۔
لیکن واضح رہے کہ "إلا ما ظهر منها" سے صرف عورتوں کو بضرورت ان کے کھلا رکھنے کی اجازت ہوئی۔ " تفسیر القرآن العظیم، مطبوعہ کراچی، صفحہ 458 تا 459۔ تفسیر سورہ النور، کتاب عورت معمار انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.