Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

19-Ishaat-e-Fahisha nahi.

Urdu · 3 min

نمبر 19: اشاعت فاحشہ نہیں، اسلام کے مدنی دور میں پیغمبرِ اسلام کی زوجہ عائشہ بنت ابی بکر پر ایک جھوٹا اخلاقی الزام لگایا گیا۔ اس الزام کا کوئی ثبوت موجود نہ تھا، مگر مدینے کے بعض افراد نے جب اس کا تذکرہ کیا تو لوگ بے تکلف اس کا چرچا کرنے لگے۔ جو سنتا وہ اس کو دوسرے سے بیان کرتا۔ اس پر قرآن میں مختلف احکام اترے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا: "جب تم لوگوں نے اس کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہ کیا، اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے؟

یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟ " پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے اس کے باعث تم پر کوئی بڑی آفت آ جاتی، جبکہ تم اس کو اپنی زبانوں سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے۔

اور جب تم نے اس کو سنا تو یوں کیوں نہ کہا کہ "ہم کو زیبہ نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے نکالیں"؟ معاذ اللہ، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ النور 12 تا 16۔ قرآن کے اس بیان سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی ایسا ہو کہ کسی مرد یا عورت کے بارے میں کوئی غیر اخلاقی بات کہی جائے تو ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اس کو صرف سن کر مان لیں اور پھر اس کا تذکرہ کرنے لگیں۔

سنی ہوئی بات کا بلا ثبوت تذکرہ کرنا خود تذکرہ کرنے والے کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرتا ہے۔ اس کے بجائے سننے والے کو یہ کرنا چاہیے کہ جب کہنے والے نے اپنی بات کے ساتھ اس کا پختہ ثبوت نہ دیا ہو تو صرف سن کر یہ کہہ دیا جائے کہ یہ جھوٹی بات ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں اچھی بات کہے تو اس کے لیے اسے کوئی ثبوت یا گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، مگر جب وہ کسی کے بارے میں ایک اخلاقی برائی کا ذکر کرے تو اس کو لازماً چار گواہ پیش کرنا ہوگا۔ ایسے چار گواہ جنہوں نے براہ راست طور پر مذکورہ اخلاقی برائی کو خود دیکھا اور سنا ہو۔

جو لوگ کسی کے بارے میں اس قسم کی اخلاقی برائی کا چرچا کریں اور اس کے ثبوت میں چار چشم دید گواہ پیش نہ کر سکیں تو وہ سخت مجرم قرار پائیں گے اور اسلامی ریاست میں انہیں کوڑا مارنے کی سزا دی جائے گی۔ کتاب عورت معمار انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 36۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.