Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

11 دسمبر 1985

Urdu · 1 min read

خیر الدین پاشا بار بروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہاز رانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص تھا۔ کہاجاتاہے کہ خیر الدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہوگیا۔

خیر الدین باربروسہ نے تقریباً اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔اس کو بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیاگیا۔ اس کی قبر پر جوکتبہ لگاہواہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— مات امیر البحر

یعنی وہ شخص جو امیر بحر تھا اس کا انتقال ہوگیا۔ یہ ایک واقعی بیان ہے۔ یہ چار سو سال پہلے مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کوئی مسلمان مرے تو اس کی قبر پر لکھنے کے لیے اس قسم کے واقعی الفاظ کسی کو نہیں ملیں گے۔بلکہ وہ غیر واقعی قصیدہ خوانی کریں گے، اورکہیں گے کہ مثلاً امیر فضا اس دنیا سے چلا گیا۔ اگرچہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا نہ ہو۔ کتنا فرق ہے مسلمانوں کے حال میں اور مسلمانوں کے ماضی میں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.