جب بھی کوئی اقدام کیا جائے تو ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز (productive) ہے یا نہیں۔ اقدام ہمیشہ کسی نتیجہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ محض اقدام برائے اقدام۔
بے فائدہ اقدام نہ کرنا بھی ایک مفید عمل ہے۔ کیوںکہ اس سے قوتیں محفوظ رہتی ہیں اور اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ وہ کسی نتیجہ خیز منصوبہ میںاستعمال ہوسکیں۔
انسان ہمیشہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تخریبی کارروائیاں بند ہوتی ہیں اس وقت تعمیری سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ غلط اقدامات کی طرف دوڑانے والے لیڈر اگر خاموش بیٹھے رہیں تب بھی وہ ایک فائدہ پہنچائیں گے۔ وہ قوم کو غلط رخ پر نہ دوڑا کر اسے موقع دیںگے کہ وہ اپنی فطرت کے زور پر مفید اور صالح رخ پر اپنا سفر جاری کرسکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.