حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ایک دعا عربی ماہ نامہ العربی میں پڑھی۔ وہ دعا یہ ہے اللَّهُمَّ إِنِّي أَطَعْتُكَ فِي أَحَبِّ الأَشْيَاءِ إِلَيْكَ، وَهُوَ التَّوْحِيدُ، وَلَمْ أَعْصِكَ فِي أَبْغَضِ الأَشْيَاءِ إِلَيْكَ وَهُوَ الْكُفْرُ، فَاغْفِرْ لِي مَا بَيْنَهُمَا(الأخبار الموفقيات للزبير بن بكار، صفحہ 198)۔ یعنی خدایا، میںنے تیری سب سے زیادہ محبوب چیز میں تیری اطاعت کی ہے، اور وہ توحید ہے۔ اور تیری سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز میں تیری نافرمانی نہیں کی اور وہ کفر ہے۔ پس ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس میں تومجھ کو بخش دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔