Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Auraq-e-Hikmat
Auraq-e-Hikmat

22 اگست 1985

Urdu · 1 min read

عربی کا ایک مقولہ ہےإِذَا تَكَلَّمْتُ بِالكَلِمَةِ مَلَكَتْنِي وإذَا لَمْ أتَكَلَّمُ بِهَا مَلَكْتُهَا (الدر الفريد وبيت القصيد للمستعصمي،جلد 6، صفحہ 65)۔ یعنی، جب میںنےایک بات کہہ دی تو وہ میرے اوپر اختیار حاصل کرلیتی ہے اور اگر میں بات نہ کہوں تو میں اس کے اوپراختیار رکھتا ہوں۔

other sourceWords of another person or source

شیخ سعدی نے یہی بات کسی قدر مختلف انداز میں اس طرح کہی ہے

تامرد سخن نہ گفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد

آدمی جب تک بات نہ کہے تو اس کا عیب و ہنر چھپا رہتا ہے

اسی بات کو انگریزی میں کسی نے اس طرح کہا ہےکہ ہم اپنے نہ کہے ہوئے الفاظ کے آقا ہیں، اور ہم ان الفاظ کے غلام ہیں جو ہم اپنی زبان سے کہہ دیں

other sourceWords of another person or source

We are masters of our unsaid words. And slaves to those we let slip out.

مختلف زبانوں میں اس طرح کے مشابہ اقوال اس بات کا ایک مظاہرہ ہیں کہ تمام انسان حقیقۃً ایک ڈھنگ پر سوچتے ہیں۔ تمام حقیقتیں آفاقی حقیقتیں ہیں۔ فطرت کی سطح پر سب کا انداز فکر ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو ایک زبان میں بیان کرتا ہے اور کوئی شخص دوسری زبان میں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content