افغانستان ایک لینڈ لاکڈکنٹری ہے۔ اس میں مختلف قومیں اور قبائل آباد ہیں۔ افغانستان کے سابق حکمراں ظاہر شاہ (1914-2007)کے زمانہ میں سردار داؤد شاہ خان (1909-1978) وزیر فوج تھے۔ انھوںنے جولائی 1973 میں فوجی انقلاب کیا، اور ظاہر شاہ کو ملک بدر کرکے خود حکومت سنبھال لی۔ سردار داؤد کو اپنے اس مقصد کے ليے کمیونسٹ پارٹی (خلق) کی مدد لینی پڑی، جو 1965 میں قائم ہوئی تھی، اور جس کا لیڈر نور محمد تَرَهكی(1917-1979) تھا۔
افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی سطح پر سردار داؤد کے انقلاب کی حمایت کی۔ اس کے بعد سردار داؤد اور نورمحمد تَرَهكی(Nur Muhammad Taraki)میںاقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔ آخر کار تقریباً ساڑھے چار برس بعد دوبارہ انقلاب ہوا۔ اپریل 1978 میں خلق پارٹی نے روسیوں کی مدد سے بغاوت کردی۔ سردار داؤد مع اپنے اہل خاندان قصر صدارت میں مار ڈالے گئے ، اور نور محمد ترہ کي برسر اقتدار آئے۔ اس طرح افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب آیا، جس کو مقامی زبان میں انقلاب نور کہاجاتا ہے۔ یہیں سے افغانستان میںباقاعدہ روسی تسلط کا آغاز ہوا۔
یہ ایک ہی کہانی ہے، جو تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جارہی ہے۔ مصر میں الاخوان المسلمون نے شاہ فاروق (1920-1965) کا خاتمہ کرنے کے ليے فوجی افسروں کا ساتھ دیا۔ بعد کو ان فوجی افسروں نے حکومت پر قابض ہو کر اس سے زیادہ ظلم کیا، جو شاہ فاروق کر سکتا تھا۔ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی(1903-1979)صدرایوب (1907-1971)کو ہٹانے کے ليے بھٹو (1928-1979)کے ساتھ متحد ہوگئے۔ مگر جب صدر ایوب کا خاتمہ ہوا، تو اس کے بعد پاکستان میں بھٹو کے تحت پہلے سے بھی زیادہ ظالمانہ حکومت قائم تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عقل چھن گئی ہے۔ وہ بار بار ایسے اقدام کرتے ہیں جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں ان کے ليے برآمد ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.