غیر دانش مندانہ اقدام کا نتیجہ اکثر الٹا نکلتا ہے۔ دانش مندانہ اقدام کیا ہے۔دانش مندانہ اقدام یہ ہے کہبے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھنا کہ کون سا کام باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرنا، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد آگے بڑھنا۔اقدام کا ہر پہلو گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔
کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.