← Asmaay-e-HusnaAsmaay-e-Husna
تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا
Urdu · 7 min
ایک بار میں ایک مغربی ملک کے سفر پر تھا، اس دوران مجھے ایک اجتماع میں خطاب کے لیے بلایا گیا۔ بلانے والے نے مجھ سے یہ نہیں بتایا تھا کہ مجمعے کی نوعیت کیا ہوگی، اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا مجمع ہوگا۔ کسی غلط فہمی کی بنا پر میرے ذہن میں یہ آ گیا کہ وہاں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہوں گے، اور مجھے وہاں اردو میں خطاب کرنا ہوگا۔
یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے ہال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیونکہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔
یہ خبر میرے لیے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کیے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ ہال کے ساتھ ایک سائیڈ روم تھا۔ میں سراسمگی کے عالم میں اس سائیڈ روم میں گیا۔
میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا اور وضو کر کے دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا، یہاں ایک عاجزِ مطلق کو خادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چِلّا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔
آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ اگر آپ حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا، آپ خود اپنے قانونِ امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں کی۔
خدایا، میں آپ کے تمام اسمائے حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جائیں۔ آپ بولتے جائیں اور میں اس کو دہراتا جاؤں۔ آپ خاموشی کی زبان میں مجھ کو بتائیں اور میں نطق کی زبان میں اس کو دوسروں کے سامنے پیش کروں۔ خدایا، اگر میں اس موقع پر نہ بولوں تو یہ میرے لیے فرارٌ من الزحف کے ہم معنی ہوگا۔
اور اگر آپ میری مدد نہ کریں تو اس بات کا اعلان نہ ہو سکے گا جس کا اعلان آپ کی سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ نہ میرے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہے اور نہ آپ کے لیے کوئی دوسرا انتخاب۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندے کا عجز اور خالق کی قدرت دونوں ایک سطح پر آ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ میرے لیے واپسی کا موقع ہے اور نہ آپ کے لیے مجھ کو نظرانداز کرنے کا موقع۔
یہ دعا کر کے میں باہر آیا اور ہال کے اندر مقرر کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں صرف مجھ کو تقریر کرنا تھا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں بولنا شروع کیا اور تقریباً ایک گھنٹے تک انگریزی میں بولتا رہا۔
میں نے پوری تقریر برجستہ طور پر اور روانی کے ساتھ کی۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں۔ لیکن مجمع کی طرف سے کوئی سوال نہ آیا۔
ایک صاحب نے بتایا کہ تمام لوگ آپ کی انگریزی تقریر سے اس قدر مسحور تھے کہ وہ اپنے اندر سوال کرنے کی جرات نہ پا سکے۔ اس تجربے کے بعد میری زندگی میں غیر متوقع طور پر ایک نیا دور آیا۔ جب کہ میں برجستہ طور پر انگریزی زبان میں بولنے لگا۔ انگریزی میں گفتگو، انگریزی میں انٹرویو، انگریزی میں تقریر، یہ سب جو اس سے پہلے میری زندگی میں موجود نہ تھا، اب وہ عمومی طور پر میری زندگی میں شامل ہو گیا۔
اور بفضلِہ تعالیٰ، تا دمِ تحریک، تا دمِ تحریر، 30 اگست 2007، جاری ہے۔ آزادیِ ہند 1947 کے بعد جب میں نے خصوصی طور پر انگریزی سیکھنا شروع کیا تو ہر ایک میری حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں، وفات 1988 میں، میرے انگریزی شوق کو دیکھ کر کہا تھا: "بڈھا طوطا کیا پڑھے گا؟ " عام تجربے کے لحاظ سے ان کا ایسا کہنا بالکل درست تھا۔
لیکن خدا کی نصرت سے وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو انسان سے نہیں ہو سکتا۔ میرے گمان کے مطابق مذکورہ دعا بلاشبہ اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی۔ اور اسی دعا کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک نہ ہونے والی بات واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے آ گئی۔