Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

لقد أوتيت سؤلك، يا موسى

Urdu · 7 min

غالباً 1962 کی بات ہے، مجھے اعظم گڑھ کے ایک قصبہ، یعنی انجان شہید کے ایک اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں مسلم حضرات شریک تھے، مجھے پیشگی طور پر معلوم نہ تھا کہ مجھ کو اس اجتماع میں خطاب کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے اچانک مجھے اسٹیج پر لے جا کر کھڑا کر دیا۔

میرے لیے یہ ایک مجبورانہ خطاب کا معاملہ تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جبکہ مجھے خطاب کے معاملے میں کامل عجز کا تجربہ ہوا۔ اس سے پہلے میں نے بار بار اجتماعات میں خطاب کیا تھا، مگر یہ تمام خطابات تحریری مقالے کی صورت میں تھے۔ مجھے پیشگی طور پر پروگرام کا علم ہوتا تھا، اور میں مقالہ لکھ کر اس کو وہاں پڑھ دیتا تھا۔

مگر اس بار ایسی صورت پیش آئی کہ مجھے لازمی طور پر بولنا بھی تھا اور کسی پیشگی تیاری کے بغیر زبانی طور پر خطاب کرنا تھا۔ اس وقت اچانک میرے اندر وہ ذہنی بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی جس کو نفسیاتی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ کہا جاتا ہے۔ اس وقت میرے لیے کسی آزادانہ انتخاب کا موقع نہ تھا۔ میں نے خدا کو یاد کیا اور دیوانگی کے عالم میں اچانک بولنا شروع کر دیا۔

حاضرین کے سامنے مائیک پر بولتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبروں کے قصے بتائے گئے ہیں، لیکن یہ تاریخی کہانی کے طور پر نہیں، بلکہ وہ ہمارے حال کے لیے ایک زندہ سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ مصر کے جابر بادشاہ کے دربار میں جائیں اور وہاں اس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کریں۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ يَضِيقُ الصَّدْرُ وَلَا يَنْطَلِقُ الْلِسَانُ سورہ نمبر 26 آیت 13۔ خدایا، میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔

پھر انہوں نے قادر مطلق خدا کی توفیق سے یہ دعا کی کہ رَبِّ اِشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُ قَوْلِي سورہ نمبر 20 آیات 25 تا 28۔ یعنی: اے میرے رب، میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرے معاملے کو آسان کر دے۔ اور تو میری زبان کی گراہ کو کھول دے تاکہ لوگ میری بات کو سمجھیں۔ میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے جب اس طرح خدائے سمیع و بصیر کو پکارا تو ان کی دعا سیدھے عرش الہی تک پہنچ گئی، اور وہاں سے آواز آئی: لَقَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى سورہ نمبر 20 آیت 36۔

یعنی: اے موسیٰ، تم نے جو سوال کیا وہ تم کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے دیوانگی کے عالم میں کہا کہ یہ واقعہ کوئی ماضی کی سرگزشت نہیں، یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح خدائے حی قیوم زندہ ہے۔ یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح خدائے حی قیوم زندہ موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی خدا کا بندہ خدا کو پکارے اور کہے کہ خدایا، میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں، تو آج بھی اس کی یہ آواز خدائے سمیع و بصیر تک پہنچے گی۔

اور وہاں سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے، تم نے جو سوال کیا وہ تم کو دے دیا گیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا اور میری آنکھ سے آنسو نہ تھمنے والے مینا کی طرح برس رہے تھے۔ اس کے بعد میں نے بے اختیارانہ انداز میں بولنا شروع کیا اور مسلسل بولتا رہا۔ یہ واقعہ میرے لیے اس معاملے میں ایک بریک تھرو کی مانند تھا۔

اس کے بعد میں نے تقریری مقالہ لکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے تقریری مقالہ لکھنا چھوڑ دیا اور برجستہ انداز میں بولنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر سینکڑوں اجتماعات میں شرکت کی اور لمبی لمبی تقریریں کیں۔ یہ بلاشبہ انجان شہید کے اجتماع والی دعا کا کرشمہ تھا۔

میری سمجھ کے مطابق یہ دعا اسم اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی۔ اس سے پہلے میں گویا ایک بے زبان انسان تھا۔ میرے مرحوم عزیز مولانا اقبال احمد سہیل، وفات 1955، مجھ کو بچپن میں مرزا پھویا کہا کرتے تھے۔ مذکورہ واقعے کے بعد میں جس طرح اجتماعات میں بولنے لگا، اس کی کوئی بھی توجیہ دعا کے سوا نہیں کی جا سکتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.