خدا کے تمام پیغمبروں نے اسمِ اعظم کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر میدانِ جنگ کی طرف نگاہ ڈالی، تو آپ کو نظر آیا کہ طاقتور مشرک فوج کے مقابلے میں موحدین کی ایک کمزور فوج کھڑی ہوئی ہے، جو تعداد میں بھی کم ہے اور سامانِ حرب میں بھی کم۔ اس نابرابری کو دیکھ کر آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ آپ کمالِ عجز کے ساتھ خدا کے سامنے زمین پر سجدے میں گر پڑے۔
اس وقت آپ کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض أبداً. مسند احمد، جلد 1، صفحہ 30۔ یعنی: اے اللہ! اگر تو اہلِ اسلام کے اس گروہ کو آج ہلاک کر دے، تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔
یہ دعا بھی اپنے ربانی جذبات کے اعتبار سے اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی، جو کامل طور پر قبول ہوئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.