Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

دعا کی طاقت

Urdu · 3 min

حدیث میں آیا ہے کہ "لا يرد القضاء إلا الدعاء" ۔ الترمذی، کتاب القدر۔ یعنی قضا اور قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔

خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب و علل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے، اور خدا کے قائم کردہ نظامِ اسباب و علل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی، خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص، اس کو بہرحال اس نظام کو بھگتنا ہے۔

کسی بھی شخص کے لیے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ دعا کا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے، اور اس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کر کے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا اور قدر یعنی ڈیسٹنی کو بدل دیتی ہے۔

لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ حتیٰ کہ قرآنی دعائیں یا معصور دعائیں بھی، اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں، تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ نظامِ قضا کو بدلنے کے لیے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے، جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے، جو انسانی شخصیت میں ایک بھونچال کے بعد ظہور میں آتی ہے۔ اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے۔

ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابلِ قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعا نہیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق قابلِ قبول ہی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.