Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

اسمائے حسنیٰ اور دیگر مذاہب

Urdu · 6 min

اسمائے حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطۂ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسمائے حسنیٰ کا تصور، یعنی کانسیپٹ، اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اس کے اندر خدا کے بارے میں اسمائے حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔

چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی، یعنی symbolic God کی ہے، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے: یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل، یعنی عہد نامہ قدیم ہے۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اس میں اسمائے حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔

ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے اس کے بارے میں "میں جو ہوں سو میں ہوں" کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں: "تب موسیٰ نے خدا سے کہا، جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر ان کو کہوں کہ تمہارے باپ دادا نے—" "جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر ان کو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے، اور وہ مجھے کہیں کہ اس کا نام کیا ہے، تو میں ان کو کیا بتاؤں؟ خدا نے موسیٰ سے کہا، میں جو ہوں سو میں ہوں، سو تو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ " (خروج باب 3، آیات 13-14) اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ، یعنی بائبل، کہا جاتا ہے۔

اس نئے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گئے۔ اس نئے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گئے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "إلهي إلهي لما شبختني" یعنی: اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ "My God, my God, why have you forsaken me? " (مارک باب 15، آیت 34) مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح کا صلیب پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔

وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کفارے مسیح کے عقیدہ، یعنی اٹونمنٹ کے مطابق، خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر چڑھ جائیں، اور انہوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق، خدا تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹرینیٹی کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔

اس عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ انسان کے لیے خدا کے معاملے میں یقین کا سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ اس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔

اس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکمرانوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا خدا دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سرچشمہ بن سکتا ہے؟ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے۔ مگر مسیحیت انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے بعد ان مذاہب۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.