Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

اسمائے حسنیٰ، خدا کا تصوراتی ماڈل

Urdu · 5 min

اسمائے حسنیٰ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے؛ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں خدا کا تصور اپنے ذہن میں لائے۔ وہ حقیقی طور پر خدا سے مربوط ہو سکے۔ بت پرستی کے مذہب میں انسان خدا کے فزیکل ماڈل بناتا ہے۔

اس قسم کے ماڈل بنانا ایک سنگین انحراف ہے؛ وہ خدا پرستانہ کلچر کو ایک بے روح رسم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسنام کلچر یا درگاہ کلچر خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ، یعنی انڈر ایسٹیمیشن ہے۔ بت پرستی کے کلچر میں یا قبر پرستی کے کلچر میں، اعلیٰ خدائی اخلاقیات کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔ اسمائے حسنیٰ گویا کہ اسی غلطی کی تصحیح ہیں۔

اسمائے حسنیٰ کے ذریعے انسان کو خدا کا تصوراتی ماڈل، یعنی کانسیپچول ماڈل، مل جاتا ہے۔ اور بلاشبہ خدا کا تصوراتی ماڈل ہی صحیح ماڈل ہے۔ اسمائے حسنیٰ کی شکل میں آدمی ان صحیح الفاظ کو پا لیتا ہے جن کے ذریعے وہ خدا سے تصوراتی ربط قائم کر سکے۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے خدا سے جو تعلق قائم ہوتا ہے، وہ ایک زندہ اور معلوم تعلق ہوتا ہے۔

مثلاً انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ خدا ایک ہو اور وہ زندہ اور قائم خدا ہو۔ اب جب وہ کہتا ہے کہ "اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم" (سورہ نمبر 3 آیت 2) تو وہ عین اپنی فطری مانگ کے مطابق فوراً خدا کا ایک حقیقی ماڈل پا لیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسمائے حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط، یعنی کانٹیکٹ ایٹ کانسیپچول لیول، کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہے۔

وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھرپور جواب، یعنی کمپلیٹ رسپانس ہے۔ اسمائے حسنیٰ انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہے۔ اسمائے حسنیٰ انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے انسان خدا کی صفاتی شخصیت کا یقینی تصور اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔

اسمائے حسنیٰ خدا کا وہ تصوراتی ماڈل ہیں جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ ماڈل، اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سرچشمہ عطا کرتا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے انسان اس صحیح فریم ورک کو پا لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لیے پوری طرح قابلِ فہم، یعنی انڈرسٹینڈ ایبل، بنا سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.