← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
(Pade-82) Ilzam kafi nahi
Urdu · 6 min
الزام کافی نہیں، الزام لگانے کا نام ملزم ہونا نہیں۔ اگر کسی شخص کے واقعتاً ملزم ہونے کے لیے یہ بات کافی ہو کہ اس کے خلاف الزام لگانے والوں نے الزام لگایا ہے، تو پھر دنیا کا ہر شخص ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوا نظر آئے گا، حتیٰ کہ خدا کے معصوم اور بے خطا پیغمبر بھی۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے، آپ بلاشبہ پاک اور معصوم تھے، مگر آپ کے زمانے کے لوگوں نے آپ پر بدترین الزامات لگائے۔ یہ الزامات صرف یہودیوں اور منافقوں نے نہیں لگائے، بلکہ آپ کے مخلص ساتھیوں تک کو آپ کے کردار کے بارے میں بے جا شبہات لاحق ہوئے۔
اس قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کا تعلق ایک انصاری مسلمان سے ہے۔ یہ بزرگ ایک بدری صحابی تھے، یعنی وہ بدر کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر لڑے تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی دین کے لیے سرفروشی پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ روایات میں آتا ہے کہ مذکورہ انصاری صحابی اور زبیر ابن العوام، یعنی مہاجر، کے درمیان ایک جھگڑا ہوا۔
یہ جھگڑا کھجور کے درختوں کی آبپاشی کے بارے میں تھا۔ مدینے میں پانی کا ایک گڑھا تھا جس سے آبپاشی کی جاتی تھی۔ اس کے پاس دونوں صاحبان کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ایک بار اس امر پر جھگڑا ہو گیا کہ دونوں میں سے کون پہلے پانی لے۔
اس کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ زبیر ابن العوام پہلے اپنے باغ میں پانی لے جائیں، اور اس کے بعد دوسرے صحابی اپنے باغ کی سِنچائی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا تھا، وہ زری مصلحت اور جغرافی حالات کی بنا پر کیا تھا۔ یہ محض ایک اتفاقی بات تھی کہ زبیر ابن العوام مہاجر تھے اور دوسرے صاحب انصاری، اور فیصلے میں زبیر ابن العوام کو اولیت حاصل ہو گئی۔
معاملے کا انصاری فریق اس بات کو نہ سمجھ سکا کہ آپ نے جو فیصلہ فرمایا ہے، وہ زری اور جغرافی بنیاد پر فرمایا ہے۔ اس نے معاملے کو مہاجر اور انصاری کی اصطلاح میں سوچا، اور یہ رائے قائم کر لی کہ آپ نے رشتے کی رعایت کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا فیصلہ فرمایا تو اس فیصلے کو سن کر مذکورہ انصاری نے کہا: "یا رسول اللہ! أن كان ابن أمتك؟
" صحیح البخاری، حدیث نمبر 2360۔ یعنی: "اے خدا کے رسول! کیا اسی لیے کہ وہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں؟ " دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہا: إنما قضى له لأنه ابن أمته المعجم الكبير للطبراني حدیث نمبر 652۔
یعنی: "رسول اللہ نے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا کہ وہ ان کی پھوپھی کے لڑکے ہیں۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم الخطا تھے، آپ سے غلطی کا صدور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے یقینی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا، وہ اخلاص کے تحت کیا اور عین درست کیا۔
اس کے باوجود ایک صحابی کو آپ کے بارے میں شبہ لاحق ہو گیا اور اس نے آپ کے اوپر جانبداری کا الزام لگایا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ الزام کے الفاظ بول دینا کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی بلا ثبوت کسی پر الزام لگائے، اور جو لوگ محض الزام کے الفاظ سن کر متعلقہ شخص کو ملزم سمجھ لیں، وہ دونوں سخت گنہگار ہیں۔ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کی خدا کے یہاں کوئی معافی نہیں، إلا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اللہ ان کی توبہ کو قبول کر لے۔
یہ واقعہ اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی کے اوپر الزام لگانے کے معاملے میں ہم کو آخری حد تک محتاط رہنا چاہیے۔ جب معصوم پیغمبر کے بارے میں غلط فہمی کا امکان ہے تو عام انسان کے بارے میں بدرجہ اولیٰ غلط فہمی کا امکان ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم ایک شخص کی خطا سمجھ رہے ہیں، وہ اس کی خطا نہ ہو، بلکہ خود سمجھنے والے کی غلط فہمی ہو۔ وہ اس کی اپنی نظر کا قصور ہو، نہ کہ متعلقہ شخص کی نیت یا عمل کا قصور۔
کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 82۔