Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Siyasat ka saath Dini Khidmat

Urdu · 11 min

سیاست کے ساتھ دینی خدمت: شمالی نائجیریا کی 65 ملین آبادی میں آدھے سے زیادہ مسلمان ہیں۔ 200 برس پہلے کی بات ہے، شمالی نائجیریا کے سلطان بیوا نے ریاست کے علماء کو اپنے دربار میں بلایا اور ان کو تحفے دیے۔ آنے والوں میں ایک بزرگ نے تحفہ قبول نہیں کیا، یہ عثمان دن فودیو 1817-1854 عیسوی تھے۔ انہوں نے کہا، "میں آپ کا تحفہ اس وقت لوں گا جبکہ آپ مجھ کو تبلیغِ اسلام کا پروانہ عطا فرمائیں۔

" سلطان نے فوراً ان کے مطالبے کو مان لیا۔ عثمان دان فودیو نے اس کے بعد تبلیغ و دعوت کا کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں سے نائجیریا کے بہت سے باشندے مسلمان ہو گئے۔ تاہم یہ سلسلہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔

عثمان دن فودیو نے اس کے بعد سلطان کے سامنے سیاسی مطالبات رکھنے شروع کیے: "تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو، ٹیکس کی شرح گھٹاؤ" وغیرہ۔ اس قسم کے مطالبات نے حکمرانوں کو خفا کر دیا۔ سلطان بیوا کسی طرح ان کو برداشت کرتا رہا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا سلطان نفاتا تخت پر بیٹھا۔

اس نے نہ صرف عثمان دان فودیو کے سیاسی مطالبات کو رد کیا بلکہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی۔ اب عثمان دان فودیو اور ان کے ساتھی سلطان کے سیاسی مخالف بن کر کھڑے ہو گئے۔ 1809 عیسوی میں اس باہمی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو عثمان دن فودیو کی موت 1817 تک ناکام طور پر جاری رہا۔ احمد وبلو انہیں عثمان دن فودیو کے لڑکے تھے، جن کو اپنے باپ سے ایک طرف تبلیغی جذبے کی وراثت ملی تھی، اور اسی کے ساتھ سیاسی جہاد کی بھی۔

عجیب بات ہے کہ احمد وبلو نے اپنے والد کے انجام سے کوئی سبق نہیں لیا اور اسی تجربے کو پھر دہرایا جو ان کے پیش رو کے زمانے میں ناکام ہو چکا تھا۔ میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر 1963 سے لے کر مارچ 1965 تک تقریباً 200,000 مشرکوں نے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ نائجیریا کے سابق وزیراعظم الحاج احمد وبلو 1901-1966 عیسوی کے الفاظ ہیں، جو انہوں نے 1384 ہجری یعنی 1964 کی معتمر اسلامی قاہرہ میں تقریر کرتے ہوئے کہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ 22 کروڑ آبادی میں 10 کروڑ 80 لاکھ مسلمان ہیں۔ اگر مسلم ملکوں کی مدد شاملِ حال ہو تو افریقہ کے مشرق قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے، اور اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا۔ احمد وبلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ احمد وبلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان ڈن فوڈیو سے ملا تھا۔ انیسویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے ردعمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔

انہی میں سے ایک عثمان ڈان فوڈیو بھی تھے۔ انہوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائجیریا کے کنارے دور تک انہوں نے اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ 1833 میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے یہ مہم جاری رکھی۔

نائجیریا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکوسو شہر تک مقابلے جاری رہے، مقابلے جاری تھے۔ تاہم آخری فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انہوں نے 1886 میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائجیریا پر قبضہ کر لیا۔ احمد وبلو انہی روایات کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے۔

ان کے باپ سکوتو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ 10 سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انہیں قرآن حفظ کرایا گیا۔

اس کے بعد انہوں نے عرب مدرسے میں داخلہ لیا۔ پہلے انہوں نے اس کے بعد انہوں نے عربی مدرسے میں داخلہ لیا اور 21 سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کر لی۔ 1926 عیسوی میں مغربی تعلیم کے لیے کاسٹینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ خاندانی وراثت کے تحت ان کو سکوتو کا امیر بنایا گیا۔

1934 عیسوی میں سلطان حسن نے ان کو شہر رباح کا گورنر مقرر کیا۔ 1938 عیسوی میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نئے سلطان ابوبکر نے احمد وبلو کو سکوتو کے ساردونا کے منصب پر سرفراز کیا۔ 1948 میں انہوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی۔ 1963 کی مردم شماری کے مطابق نائجیریا میں 36 ملین مسلمان ہیں، عیسائی 19 ملین اور دوسرے قبائل 10 ملین ہیں۔

شمالی نائجیریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائجیریا میں زیادہ تر عیسائی۔ احمد وبلو شمالی نائجیریا کے لیڈر تھے۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہے۔ 1960 عیسوی میں نائجیریا آزاد ہوا تو وہاں ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی۔

اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر سر ابوبکر تفاوی ولیوہ تفاوی بلیوہ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر سر ابوبکر تفاوی بلیوہ 1912 تا 1966 عیسوی تھے۔ احمد وبلو شمالی نائجیریا کے وزیراعظم مقرر ہوئے۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور مسلمان اور عیسائی دونوں شریک تھے۔ احمد وبلو نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔

اس کے نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے مگر انہیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ 15 جنوری 1966 عیسوی کو 25 فوجی افسروں نے مل کر بغاوت کر دی۔ اس بغاوت میں ابوبکر ابوبکر تفاوی بلیوہ احمد وبلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے۔ اس کے بعد نائجیریا میں فوجی حکومت قائم ہو گئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے۔

جنرل ارونسی تھے مگر انہیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ 29 جولائی 1966 عیسوی کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیے گئے۔ نائجیریا میں دو مسئلے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد 70 فیصد ہے مگر تعلیم، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے عملاً اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔

ضرورت ہے کہ انہیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تاکہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پا سکیں۔ دوسرا کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر 10 ملین مشرک قبائل تھے۔ دوسرا کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر 10 ملین مشرک قبائل میں اسلام کی اشاعت ہے۔ یہ دونوں کام احمد وبلو نے شروع کر دیے تھے مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جا سکتا۔

احمد وبلو اگر سیاست سے الگ ہو کر یہ کام کر رہے ہوتے تو وہ 20 تا 25 برس میں نائجیریا کی تاریخ بدل دیتے۔ مگر سیاست کے خارزار نے انہیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 418۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.