نظامِ مصطفیٰ کی نئی تعبیر: ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے زمانے میں پاکستان قومی اتحاد کے ایک حامی اخبار نے طنزیہ انداز میں لکھا تھا، "اب تو بھٹو نے جیل میں سجادہ بچھا لیا ہے"۔ نمازیں پڑھنا شروع کر دی ہیں اور تسبیح ہاتھ میں لیے اوراد و وظائف میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ المنبر، فیصل آباد، 23 مئی 1978 عیسوی۔ 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں مسٹر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسٹر بھٹو کو جب پھانسی کے تختے پر کھڑا کیا گیا تو آخری کلمات جو ان کی زبان سے نکلے وہ یہ تھے: "خدایا میری مدد کر، میں بے قصور ہوں"۔ رپورٹر مسٹر مارک ٹولی کے لیے دنیا کو اس واقعے کی خبر دینا اتنا مہنگا ثابت ہوا کہ نظامِ مصطفیٰ کے علم بردار نوجوانوں نے اسلام آباد میں رپورٹر کو گھیر کر اسٹک سے مارا، اور حکومت نے اس کے خلاف راولپنڈی کے میجسٹریٹ کے یہاں مقدمہ دائر کر دیا۔ نظامِ مصطفیٰ کی یہ قسم بالکل نئی ہے کہ اس کے علم بردار کسی شخص کو صرف اس کے جرم کی سزا دینا کافی نہیں سمجھتے، اسی کے ساتھ وہ اس کو جہنم میں پہنچانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ کتاب: "اسباقِ تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 408۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.