ضمیر: "دنیا میں خدا کی عدالت ہے۔ " مرحوم ذوالفقار علی بھٹو، 1928 تا 1979 عیسوی، کو قتل کے الزام میں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم واجب القتل تھے یا نہیں، اس میں دنیا کے علمائے قانون کی دو رائے ہیں؛ تاہم اس میں دو رائے نہیں، تاہم اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان کے علمبردارانِ اسلام نے 4 اپریل کی رات کو اس شخص کو قتل کر دیا جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اس سلسلے میں ہم پاکستان کے علمبردارانِ اسلام سے صرف ایک بات کہنا چاہتے ہیں، وہ یہ کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا ہے۔
اگر فی الواقع آپ کے اس اقدام کا مقصد انصاف کے تقاضے پورا کرنا تھا، تو اللہ کے یہاں آپ کے لیے اجر ہے۔ اور اگر یہ ایک قانونی ڈرامہ تھا جو سیاسی مقصد کے لیے کھیلا گیا، تو آپ کو ڈرنا چاہیے کہ کل قائم ہونے والی بڑی عدالت میں آپ خدا کو کیا جواب دیں گے۔ ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ آپ اپنا احتساب کر کے دیکھیں کہ آپ کہاں کھڑے ہوئے ہیں، تنہائی کے وقت، تنہائی کے وقت میں جب کہ نہ کوئی آپ کے آگے ہو اور نہ پیچھے، نہ کوئی دائیں ہو اور نہ کوئی بائیں۔ بس آپ ہوں اور آپ کا خدا ہو۔
ایسے عالم میں آپ اپنے کو بے پردہ کر کے دیکھیں کہ اس پھانسی کا محرک آپ کے لیے کیا تھا۔ کیا یہ کہ ایک بے گناہ انسان کے قاتل کو اس کے قتل کی سزا مل جائے، یا اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ کام کر رہا تھا کہ ایک سیاسی حریف جس کے متعلق آپ جان چکے تھے کہ الیکشن کے میدان میں آپ اس کو شکست نہیں دے سکتے، اس کو قتل کر کے ہمیشہ کے لیے سیاست کے میدان سے ہٹا دے، خواہ اس مقصد کے لیے ایک عدالتی ڈرامہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تنہائی کا احتساب جس میں آپ کا دل لرز رہا ہو، اور آخرت کے خوف سے آپ کی پلکیں بھیگ گئی ہوں۔ اگر آپ کو یہ بتائے کہ آپ نے صرف ایک قاتل کو اس کے قتل کے جرم کی سزا دینے کے لیے ایسا کیا ہے، اس میں کوئی سیاسی جذبہ شامل نہیں ہے، تو بلاشبہ آپ اللہ کے نزدیک بری الذمہ ہیں۔
لیکن اگر ایسا ہو کہ اپنا احتساب کرتے وقت آپ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جائیں، آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ کی اندرونی آواز آپ کی زبان سے بولے ہوئے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی ہے، تو سمجھ لیجیے کہ خدا کے گواہ کی گواہی آپ کے خلاف ہے۔ خدا کے گواہ کی گواہی آپ کے خلاف ہے۔ آپ سے اتنا بڑا جرم ہو گیا ہے کہ آخرت میں ہمالیہ پہاڑ کے برابر سونا دے کر بھی آپ اپنے کو بری الذمہ نہ کرا سکے۔ اس دن نہ کسی جنرل کو اس کی مسلح فوج بچانے والی ثابت ہوگی، اور نہ کسی اسلام پسند کو کوئی فوجی حکمران۔
آج کے تمام بامعنی الفاظ اس وقت بے معنی ہو جائیں گے۔ آج کے تمام ساتھی اس دن ساتھ چھوڑ دیں گے، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو آج آپ کو مبارکباد کے تار بھیج رہے ہیں۔ باہر کے جن لوگوں نے اس کارروائی کی تائید کی، ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ وہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں، اگر وہ پائیں کہ ان کی تائید صرف اس لیے تھی کہ قاتل کو اس کے قتل کی سزا ملے، تو اللہ کے یہاں ان کے لیے اجر ہے۔
اور اگر اس کے پیچھے دوسرے محرکات کام کر رہے ہوں، تو وہ بھی اقصیٰ طور پر اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے: إذا عُمِلَت الخطيئة في الأرض كان من شهدها فكرها وقال مرة أنكرها كان كمن غاب عنها ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4345۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 405۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.