← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Madu me Bartari ki nafsiyyaat paida karna
Urdu · 6 min
مدعو میں برتری کی نفسیات پیدا کرنا۔ مسز اندرا گاندھی کو ہندوستان کے الیکشن 1977 میں مکمل شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد جنتا حکومت نے پوری کوشش کی کہ ان کو سیاسی منظر سے ہٹا دے، مگر جنوری 1980 عیسوی کے الیکشن میں دوبارہ اندرا گاندھی کو اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کی دو تہائی نشستوں پر ان کی پارٹی قابض ہو گئی۔ اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان ٹائمز 8 جنوری 1980 لکھتا ہے: "ملک اپنی جمہوریت پر فخر کر سکتا ہے، جس نے اندرا کے لیے اس حیران کن واپسی کو ممکن بنایا۔
" ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ انتخابی طریقے کے ذریعے پرامن سیاسی تبدیلی کے نظام کے ساتھ، ان بہت سے زیرِ ترقی ممالک سے ممتاز طور پر نمایاں ہے، جہاں اختلافِ رائے کو سختی سے دبا دیا گیا ہے، انفرادی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، اور سیاسی تبدیلی صرف تشدد ہی کے ذریعے وجود میں آ سکتی ہے۔ The country can be proud of its democracy, which has enabled her to make her stunning comeback. India's political system, with its mechanism of smooth political change through the ballot—standee out in striking contrast to those of most developing countries, where dissent is stifled, individual liberties smoothed and change ashered in only amid violence. اس عبارت میں واضح طور پر ایران اور پاکستان جیسے ملکوں کی طرف اشارہ ہے۔
یہ اقتباس موجودہ زمانے کے ایک بہت بڑے المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے: موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جو تحریکیں اٹھیں، انہوں نے اسلام کی کوئی واقعی خدمت تو نہ کی، البتہ اسلام کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اپنے بوائخ کو اسلام کا عنوان دے کر دوسری قوموں کے سامنے اسلام کی تصویر ہلکی کر دی، اور اس طرح مدعو اقوام میں غیر ضروری طور پر اسلام کے مقابلے میں احساسِ برتری کا جذبہ پیدا کر دیا۔ یہ تحریکیں اگر اسلام کے سوا کسی اور نام پر اٹھتیں تو ان کی نادانیوں کا الزام ان کے اپنے سر جاتا، مگر اسلام کے نام پر اٹھنے کی وجہ سے ان کی ہر چیز اسلام کی طرف منسوب ہو گئی۔ وہ قومیں جو اسلام کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں، وہ اپنے کو افضل پا کر اس نفسیات میں مبتلا ہو گئیں کہ ان کے پاس وہ چیز زیادہ بہتر طور پر موجود ہے جس کی اسلام دعوت دیتا ہے۔
اسلامی نظام اور نظامِ مصطفیٰ میں انسان کی آزادی کو کچلا جاتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے نظام میں انسان کو آزادیِ رائے کا حق حاصل ہے۔ ان کے یہاں ہر سونسَل کی ہلاکت کی قیمت پر حکومتیں بدلتی ہیں۔ ہمارے یہاں پرامن انتخابات سے ان کے یہاں سیاسی اختلاف پر کوڑے لگتے ہیں اور ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔ ہمارے یہاں سیاسی اختلاف پر کوئی پابندی نہیں۔
ان کے یہاں کسی مجرم کو سزا دینے کے لیے نہ گواہی شہادت کی ضرورت ہے، اور نہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کی۔ جس کو چاہا پکڑا اور سرسری سماعت کے بعد گولی مار دی یا جیل میں بند کر دیا۔ ہمارے یہاں کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اس پر باقاعدہ مقدمہ چلا کر قانونی طور پر اس کو مجرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ ان کے یہاں اختلاف کو آپس کی مار کاٹ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔
ہمارے یہاں آپس کا اختلاف پرامن ذرائع سے طے ہو جاتا ہے۔ مسلمان اپنی نالائقی کی بنا پر موجودہ دنیا میں دوسرے درجے کی قوم بن چکے تھے۔ اب انہوں نے اسلام کی غلط نمائندگی کر کے اسلام کو بھی قوموں کی نظر میں دوسرے درجے کا مذہب بنا دیا ہے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 403۔