ایک تسبیح کے بدلے 20 ملین پاؤنڈ؟ لیبیا میں 1 ستمبر 1969 کے انقلاب کے نتیجے میں شاہ ادریس کی حکومت ختم ہو گئی، اور موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ اس واقعے کی خبر جب پہلی بار صدر جمال عبدالناصر کو دی گئی تو حاضرین نے اس پر مختلف انداز سے تبصرہ شروع کیا۔ صدر ناصر نے اس موقع پر اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔
انہوں نے کہا، "مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جبکہ ہم کو ہتھیار خریدنے کے لیے رقم کی فوری ضرورت تھی، میں نے حسن صبری الخولی کو شاہ ادریس کے پاس بھیجا اور ان سے اس موقع پر تعاون کی درخواست کی۔ شاہ ادریس نے فوراً وعدہ کر لیا کہ وہ ہم کو 20 ملین پاؤنڈ دے دیں گے، صرف ایک شرط پر: وہ یہ کہ ان کو وہ تسبیح واپس کر دیں جو ان کے خاندان کے ایک بزرگ نے الازہر کی مسجد کے لیے دی تھی، اور جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اب بھی مسجد کی کسی کھونٹی پر لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے حسن الخولی سے کہا کہ وہ الازہر جائیں اور مذکورہ تسبیح حاصل کریں، اور اس کو شاہ ادریس تک پہنچا دیں۔ " حسن الخولی نے فوراً ایسا کیا، اور شاہ ادریس نے وعدے کے مطابق ہم کو 20 ملین پاؤنڈ کی رقم پیش کر دی۔
صفحہ 68 تا 69۔ کتاب: "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 392۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.