Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Wo Atom Bomb Kharidn-e0gaye

Urdu · 5 min

وہ ایٹم بم خریدنے گئے۔ لیبیا کے فوجی انقلاب ستمبر 1969 کے بعد صدر معمر قذافی قاہرہ آئے ایک موقع پر، جبکہ صدر ناصر ان کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان ٹینک، ہوائی جہاز وغیرہ میں طاقت کی نسبت کیا ہے۔ قذافی نے بھڑک کر کہا، "نہیں، نہیں، ہمیں سیدھے ایک بھرپور جنگ کرنا چاہیے، اور اسرائیل کا خاتمہ کر دینا چاہیے۔ " ناصر نے ضبط کرتے ہوئے کہا، "یہ ناممکن ہے، بین الاقوامی صورتحال ہم کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی، نہ روس اور نہ امریکہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کی اجازت دیں گے جس سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہو۔

" قذافی نے پوچھا، "کیا اسرائیل کے پاس ایٹم بم ہے؟ " ناصر نے کہا، "ہاں، اس کا غالب امکان ہے۔ " قذافی نے دوبارہ پوچھا، "کیا ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہیں؟ " ناصر نے کہا، "نہیں، ہمارے پاس نہیں ہیں۔

" دو یا تین ماہ بعد لیبیا کی دوسرے درجے کی بڑی شخصیت، میجر جالوت، اچانک مصر آئے اور ناصر سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ سفر بہت خفیہ ہے اور ان کا واحد مقصد صدر ناصر سے ملنا ہے۔ صدر ناصر نے ملاقات کے وقت پوچھا کہ ان کو کیا مشورہ درکار ہے۔ جالوت نے کہا، "ہم ایک ایٹم بم خریدنے جا رہے ہیں۔

" ناصر نے پوچھا، "وہ کہاں سے اس کو خریدنے جا رہے ہیں؟ " جالوت نے کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ امریکی اور روسی ہمارے ہاتھ ایٹم بم بیچنے کے لیے تیار نہ ہوں گے، مگر امید ہے کہ چینی اس کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ ناصر نے کہا کہ جہاں تک وہ جانتے ہیں، ایٹم بم خرید کر کبھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جالوت نے کہا، "ہم کوئی بڑا ایٹم بم نہیں چاہتے، بس جنگی تدبیر کے طور پر ایک اوسط درجے کا بم کافی ہوگا۔

" ہم نے چینیوں سے رابطہ قائم کیا اور ان سے کہا کہ ہم اپنا ایک آدمی وہاں ملاقات اور گفتگو کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خیرمقدم کے لیے تیار ہیں۔ اب میں چین جا رہا ہوں۔ جالوت بھیس بدل کر روانہ ہوئے۔

انہوں نے لیبی پاسپورٹ کے بجائے مصری پاسپورٹ لیا اور پاکستان اور ہندوستان کے راستے سے سفر کر کے پیکنگ پہنچے۔ چینیوں کو خبر نہ تھی کہ اس سفر کا مقصد کیا ہے، مگر چوینلائی کے ساتھ ملاقات کا ایک وقت مقرر ہو گیا۔ اس ملاقات میں لیبیا کی انقلابی کونسل کے نائب صدر نے بتایا کہ وہ ایک بہت ضروری معاملے کے لیے پیکنگ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام ایشیائی ملکوں کے لیے باعث فخر ہے، آپ لوگوں نے پسماندہ ملکوں کی مدد کے لیے بہت کچھ کیا ہے، اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ لوگ اتنے ہی طاقتور ہیں جتنا کہ مغرب۔

اس لیے ہم لیبیا سے آپ کی مدد حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم آپ کے اوپر بوجھ بننا نہیں چاہتے، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ چیزیں بہت زیادہ داموں میں تیار ہوتی ہیں۔ ہم ایک ایٹم بم خریدنا چاہتے ہیں۔ " چاؤ ان لائی نے اس کے جواب میں نہایت نرم لہجہ اختیار کیا۔

انہوں نے معیاری چینی اخلاق کے ساتھ کہا کہ ایٹم بم فروخت نہیں کیے جاتے۔ چین کو یقیناً اس سے خوشی ہوگی کہ وہ ریسرچ کے کام میں لیبیا کی مدد کرے، جس طرح چند سال پہلے چین نے مصر کو تحقیقاتی مدد دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری لیبیا کو خود اپنے آپ کرنی ہوگی، ہر قوم کو خودکفیل بننے کی کوشش کرنا چاہیے، وغیرہ۔ چنانچہ میجر جالوت چین سے ہاتھ خالی واپس آ گئے۔

صفحہ 76 تا 77 کہا جاتا ہے کہ صدر ناصر جب مصر میں برسر اقتدار آئے تو انہوں نے بھی ایٹم بم کی خریداری کے لیے ایک وفد روس بھیجا تھا، اور وہاں ان کو وہی جواب دیا گیا جو لیبی وفد کو چین میں جواب دیا گیا۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 390۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.