Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tareekhi Tafseelaat

Urdu · 17 min

تاریخی تفصیلات: تاریخ ابن زیاد رمضان 91 ہجری میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ 7,000 کا لشکر تھا۔ ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان 10 میل کی آبنائے کو ان کے لشکر نے 4 کشتیوں کے ذریعے پار کیا تھا۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانے کے ایک مورخِ اسلام لکھتے ہیں: "اس سے اس زمانے کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے۔ " موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار 4 کشتیوں پر لد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا، حالانکہ یہ صحیح نہیں۔

اس زمانے میں ایسی کشتی وجود میں نہیں آئی تھی جس پر 2,000 فوجی اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں۔ اصل یہ ہے کہ ان لشکریوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارخ کو پار کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ بازنطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی، تاہم مراکش کے ساحل پر سبتہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی اسپینی گورنر یلیان یعنی کاؤنٹ جولین کے قبضے میں تھے۔

یہاں رومیوں نے زبردست قلعہ بنایا تھا، موسی بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی، مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انہوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے صلح کر لیں اور اس ساحلی قلعے کو اس کے قبضے میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے بازنطینی سلطنت کے خاتمے کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لیے۔ سبتہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعے اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ براعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انہوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح کی؟ اس کا جواب زیر بحث مسئلے کے تاریخی مطالعے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 415 عیسوی میں قوت یعنی ویزیگوتس قبائل اسپین میں گھس آئے اور 500 سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔

گوت کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کر کے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانے میں مسلمانوں نے بازنطینی اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ یعنی ٹولیڈو پر گوت کا آخری بادشاہ ویکا یعنی فیت شاہ حکمران تھا۔ ویکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے اس فوجی افسر ریڈرک رزریق یعنی ریڈرک کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔ سبتہ کا گورنر جولین اگرچہ ویکا کا رشتہ دار تھا، تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں رزریق سے وابستہ کر دیں۔

مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا، جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔ اس زمانے میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق عمرا کی لڑکیاں عرصے تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ رزریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔

لڑکی جوان ہوئی تو رزریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبری طور پر اس کی عصمت دری کی۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعے کی اطلاع اپنے باپ کو دے دی۔ جولین کو اس واقعے کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رزریق کی سلطنت کو دفن نہ کر لے، چین سے نہ بیٹھے گا۔

اولاً وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کر کے اس کو سبتہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسی بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسی کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ 90 ہجری کا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔ اس کے بعد موسی بن نصیر نے خلیفہ ولید ابن عبدالملک سے خط و کتابت کی۔ کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: "مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگر تم پرامید ہو، جب بھی ابتداءً تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔

" موسی نے رمضان 91 ہجری میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زراع تھی، پہلی مہم کے طور پر 500 آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف 10 میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے 4 کشتیوں کے ذریعے اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔

یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کر کے دوبارہ واپس آ گئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان 92 ہجری میں تاریخ ابن زیاد کی سرکردگی میں 7,000 کا لشکر تیار کیا گیا۔ 10 میل کی آبنائے کو پار کر کے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔

اس زمانے میں اور آج بھی فاتح کی داستانوں میں اس قسم کے اضافے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لیے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی قدیم کتابوں میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کر کے جب تاریخ ابن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انہوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا: "یا یوحناس! العدو امامکم، والبحر وراءكم، ولیس لکم واللہ الا الجلد والصبر۔

" بدائع السلک فی طبائع الملک جلد ایک صفحہ 162 یعنی: "اے لوگوں! دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے ہے۔ تمہارے لیے خدا کی قسم، اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔ " سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکری چیخ اٹھے: "انا وراءک یا طارق!

طارق! ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ " تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جبکہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔

اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ "سمندر تمہارے پیچھے ہے" لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گوئیوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لیے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو۔ وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کمانڈر اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ سکتا ہے۔ تاریخ اور موسی ابن نصیر یعنی گورنر افریقہ کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانے میں ممکن نہ تھا۔

یہ قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش کرنے کے درمیان تقریباً دو ماہ تک یہی کشتیاں تھیں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں۔ تاریخ جس مقام پر اترے اس کا نام قلعۃ الاسد لائنس راک تھا۔ بعد کو وہ جبل التارخ یعنی جبرالٹر کے نام سے مشہور ہوا۔ تاریخ اسپین کے جس ساحل پر اترے، وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔

وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بنا سکیں۔ اسپین کا بادشاہ رزریق ان دنوں بمبلونا یعنی پمپلونا کی ایک جنگ میں مشغول تھا جہاں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی تھی۔ اس کو جب تاریخ کے اسپین میں داخلے کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا جا سکے۔ تاریخ کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔

انہیں جب رزریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انہوں نے فوراً اپنا ایک خاصد موسی بن نصیر یعنی گورنر افریقہ کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی۔ ادھر موسی بھی خاموش نہ تھے بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے۔ چنانچہ انہوں نے کشتیوں کے ذریعے 5,000 مزید سپاہی بھیج دیے۔ اس طرح تاریخ کے لشکر کی تعداد 12,000 ہو گئی۔

تاریخ نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعے کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانے میں ممکن نہ تھا۔ اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنہوں نے 5,000 فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد تاریخ اس قابل ہو گئے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ تاریخ اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی اور نہ مقابلے کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔

اس معرکے میں جولین بھی پوری طرح تاریخ کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رزریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت تاریخ کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمے لیا اور فوجی اعتبار سے کمزور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال 88 تا 90 ہجری تک اندلس میں سخت خہد پڑا تھا۔

اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔ مزید یہ کہ رزریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رزریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شصرت اور ابتا بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا: "رزریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہو گیا ہے، حالانکہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

یہ تو ہمارے یہاں کے کمینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لیے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لیے مقابلے کے وقت اس خبیث کو زک دینے کے لیے ہم کو خود شکست کھانا کھا جانا چاہیے۔

" رزریق کی فوج کے ایک حصے نے نہایت سخت جنگ کی مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالاخر شکست ہوئی اور رزریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو تاریخ نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسی بن نصیر نے، جو بعد کو 18,000 فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 نے لکھا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گوتھ کی دعوت پر ہوا تھا، نہ کہ محض اپنی تحریک پر۔ 709 میں ویٹیزا کی موت سے اسپین میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں رزریق کے مقابلے میں ویٹیزا کے خاندان نے موسی بن نصیر سے مدد چاہی۔ اس کے بعد تاریخ 711 عیسوی میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں اترے اور رزریق کو فیصلہ کن شکست دی۔

اس کے بعد تعجب خیز طور پر اکثر اسپینیوں نے رضاکارانہ طور پر اس کی اطاعت قبول کر لی۔ 20,000 کی ایک فوج کے ہاتھوں اس تیز رفتار فتح کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس وقت اسپین کے لوگوں میں اتحاد نہ تھا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں سے اسپین کے لوگوں کو بہت فائدے پہنچے۔ مثلاً نئے حکمرانوں نے ان کے اوپر سے ٹیکس کا بوجھ کم کر دیا۔

نچلے طبقے کے لوگوں کو آزادی حاصل ہو گئی۔ یہود پر عیسائیوں کی طرف سے ہونے والے مظالم ختم ہو گئے اور انہیں سماج کے اندر برابری کا درجہ مل گیا۔ اس طرح اٹھویں صدی عیسوی کے پہلے نصف حصے میں مسلم اسپین کے اندر ایک نیا اور بالکل مختلف سماج قائم ہو گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 17 صفحہ 414 کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 259۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.