← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Maut ke Waqt
Urdu · 5 min
موت کے وقت عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور سفر میں تھا کہ سخت بیمار پڑا، اور راستے میں ہی 59 ہجری میں اس کا انتقال ہو گیا۔ آخر وقت میں اس کی زبان پر یہ فقرہ تھا: "بادشاہ وہ ہے جو نہ مرے"۔ یزید ابن معاویہ کے بعد معاویہ بن یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا، بہت تھوڑی مدت میں 64 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان سے کہا گیا: "اپنے خاندان میں سے کسی کو خلیفہ نامزد کر دیجیے"۔
اس کے جواب میں انہوں نے کہا: "میں نے خلافت سے نہ زندگی میں فائدہ اٹھایا ہے اور نہ مرنے کے بعد اس کا بوجھ اٹھاؤں گا"۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بنو امیہ اس کی شیرینی لیں اور میرے حصے میں اس کی تلخی آئے۔ مامون الرشید بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ تھا، 218 ہجری میں جب وہ مرنے لگا تو آخری جملہ جو اس کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا: "اے وہ جس کی سلطنت کبھی زائل نہ ہوگی، اس پر رحم کر جس کی سلطنت زائل ہو رہی ہے"۔ اے وہ جو کبھی نہیں مرے گا، اس پر رحم فرما جو مر رہا ہے۔
خلیفہ واسخ باللہ کی وفات 232 ہجری میں ہوئی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے حکم دیا کہ فرش اٹھا دیا جائے۔ جب فرش ہٹا دیا گیا تو اس نے اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا اور کہا: "اے وہ جس کی بادشاہی لازوال ہے، اس پر رحم کر جس کی بادشاہی ختم ہو گئی"۔ یہ کہتے ہی اس کا انتقال ہو گیا۔
خلیفہ معتضد باللہ عباسی کا انتقال 289 ہجری میں ہوا۔ اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے چند عربی شعر پڑھے جن کا مطلب یہ ہے: "میں نے بڑے بڑے بہادر مارے، میں نے کوئی دشمن نہ چھوڑا"۔ "کسی کو بھی میں نے سرکشی پر باقی رہنے نہ دیا، میں نے دارالسلطنت کو تمام مخالفوں سے خالی کر دیا"۔ "ان کو پراگندہ کر کے انہیں مشرق و مغرب میں پھیلا دیا"۔
"لیکن جب میں اپنی عزت و بلندی میں ستاروں تک پہنچ گیا، اور تمام مخلوق کی گردنوں میں میری غلامی کا طوق پڑ گیا، تو ایسا ہوا کہ موت نے مجھ پر ایک تیر چلایا اور میری آگ کو بجھا دیا"۔ "دیکھ لو، اب میں جلد ہی اپنے گڑھے میں ڈالا جانے والا ہوں"۔ حجاج ابن یوسف نے گورنر بننے کے بعد عراق میں خطبہ دیا: "گردنیں اونچی ہو رہی ہیں، سروں کی فصل پک چکی ہے، اور کٹائی کا وقت آ گیا ہے"۔ "میری نظریں وہ خون دیکھ رہی ہیں جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے"۔
یزید کے بعد بنو امیہ کی حکومت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے اس نے لاکھوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ 54 سال کی عمر میں وہ مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کو بے حد سخت تکلیف تھی۔ ابو منظر یعلیٰ نے لوگوں کی طرف سے اس پر لعنت کرتے ہوئے کہا کہ "تو اس قوم کا فرعون تھا، آج تیرے لیے نہ نجات ہے اور نہ فریاد"۔ حجاج یہ سن کر بری طرح رو پڑا۔
اس نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور کہا: "الہی مجھے بخش دے، کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے نہیں بخشے گا"۔ "آہ میری ہلاکت، آہ میری ہلاکت، اگر اس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کیا"۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔