منفی سیاست مہنگی پڑی۔ موجودہ زمانے میں اسپین کے مؤرخین اسپین کے اسلامی دور کا ذکر بے حد نفرت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسپین کی قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک ماہر لکھتا ہے: "اگر اسلام نہ ہوتا تو اسپین بھی فرانس، جرمنی، اٹلی اور انگلینڈ کی طرح ترقی کا راستہ اختیار کرتا، بلکہ وہ یورپ کا رہنما بن جاتا؛ مگر اسلام نے آئبیریا، یعنی اسپین اور پرتگال کی تقدیر کو بگاڑ دیا۔ " اس میں شک نہیں کہ یورپ کو اسلام نے بے اندازہ فائدہ پہنچایا، مگر اسپین کو اس نے انسانی ترقی کے قافلے سے پیچھے کر دیا۔
جو اسلام بقیہ یورپ کے لیے رحمت ثابت ہوا، وہی اسلام اسپین کے لیے نقصان دہ کیسے بن سکتا تھا؟ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ اس کی ذمہ داری خود اسپین پر تھی، نہ کہ اسلام پر۔ چنانچہ پروفیسر جے بی ٹرینڈ نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ اسپین کی منفی سیاست تھی: مسلمانوں کی فتح اسپین 711 عیسوی کے بعد یہ ہوا کہ اٹلانٹک سے لے کر بحر روم تک سارے شمالی اسپین میں جگہ جگہ مسلم حملہ آوروں کی مخالفت کے مرکز قائم ہو گئے۔ بیشتر لوگوں کا مشغلہ بس جنگ و جدال بن کر رہ گیا۔
تمام مردانِ کار نے فوجی و عسکری زندگی اختیار کر لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر قسم کی علمی اور اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ اسپین والوں کی مسلم مخالف سرگرمیاں صدیوں کے بعد 16ویں صدی میں اپنی کامیابی کو پہنچیں۔ انہوں نے اسپین کے تمام مسلمانوں کو یا تو مار ڈالا یا ملک سے باہر نکال دیا۔
مگر یہ شاندار کامیابی ان کو صرف اس قیمت پر حاصل ہوئی کہ ملک اپنے تمام ہنرمند کاریگروں اور لاکھوں زرعی کارکنوں سے محروم ہو کر رہ گیا۔ اس خلا کے بعد اسپین کا زوال بالکل لازمی اور ناگزیر تھا۔ مزید یہ کہ اسلام جب ایک خطرناک ہمسائے کی حیثیت سے ان کے درمیان باقی نہ رہا تو ان کی صدیوں کی تربیت یافتہ جنگجوئی نے باہمی اختلاف اور لڑائی کی صورت میں اس کا استعمال پا لیا۔ اسپین کی مسیحی ریاستیں مسلم نشانے کو ناپاک راپس کے جنگ و پیکار میں مصروف ہو گئیں۔
ان کی انقطاع پسندی نے ان کے درمیان مختلف زبانیں اور مختلف روایتیں پیدا کر دیں۔ ابتدائی صدیاں اگر مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں ضائع ہوئی تھیں تو بعد کا زمانہ خود اپنوں کے خلاف ہنگامہ کرنے میں برباد ہو گیا۔ لیگیسی آف اسلام، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، لندن، صفحہ 139۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 191۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.