Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tareekh ka Sabaq

Urdu · 7 min

تاریخ کا سبق: 750 عیسوی میں عباسیوں نے بنو امیہ سے خلافت چھین لی، اور عباسی خلافت کی بنیاد ڈالی۔ عباسی لیڈر یہ کام صرف اپنی طاقت سے نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے ایرانیوں کی مدد لی۔ ایرانیوں کی مدد سے بنو امیہ کی سلطنت ختم ہوئی، اور بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی۔ انہوں نے دمشق کو چھوڑ کر بغداد کو اپنا سیاسی مرکز بنایا۔

ایرانیوں سے مدد لینا صرف ایک وقتی معاملہ یا سادہ واقعہ نہیں تھا۔ اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ ہوا کہ مسلم سماج اور مسلم سیاست دونوں میں ایرانیوں کا نفوذ بہت بڑھ گیا۔ بنو امیہ کے زمانے میں حکومت کی پالیسی تعریب، یعنی عربی سائزیشن کے اصول پر چل رہی تھی۔ اس کے جلو میں اسلامائزیشن کا عمل جاری تھا، مگر عباسی اقتدار میں ایرانیوں کے زیرِ اثر تفریس، یعنی پرشنائزیشن کا عمل جاری ہو گیا۔

اس کے نتیجے میں بے شمار مسائل پیدا ہو گئے، جس کے گہرے اثرات آج تک باقی ہیں۔ ایک مؤرخ کے الفاظ میں، عباسیوں کے ماتحت اسلامی خلافت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ بنو امیہ کے زمانے میں توجہ کا مرکز مغرب، شمالی افریقہ، میڈیٹرینین، اور جنوبی یورپ تھا، مگر اب اسلامی خلافت نے اپنی توجہ مشرق کی طرف موڑ دی۔ Under the Abbasids, the caliphate entered a new phase: instead of focusing as the Umayyads had done on the West, on North Africa, the Mediterranean and relations with southern Europe, the caliphate now turned eastward.

(Encyclopedia Britannica, volume 1, page 7) اس معاملے کی سنگینی اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب یہ سوچا جائے کہ عباسی خلفا اگر بنو امیہ کے خلاف اپنی مہم میں پوری طرح کامیاب ہو جاتے، تو اسلامی تاریخ میں اس شاندار باب کا سرے سے وجود ہی نہ ہوتا، جس کو مسلم اسپین کہا جاتا ہے۔ عباسی خلفا نے نہ صرف یہ کیا کہ مغربی ممالک کی طرف اپنی توجہ کم کر دی، بلکہ وہ ان امویوں کے جانی دشمن بن گئے جو ان سے پہلے یہ کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اموی خاندان یا اموی سلطنت سے تعلق رکھنے والے ایک ایک شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اموی دور میں اگر اسپین کی طرف پیش قدمی شروع نہ ہو چکی ہوتی، اور اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل اگر جان بچا کر اسپین پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ہوتا، تو اسلامی تاریخ میں مسلم اسپین اور یورپ میں اسلام کے داخلے کا باب شاید سرے سے حذف ہو جاتا۔

یہی معاملہ ایک اور صورت میں ہندوستان میں پیش آیا: مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ 1540 سے لے کر 1555 تک وہ دہلی کے تخت سے محروم رہا۔ اس دوران وہ بھاگ کر ایران پہنچا، اور وہاں شاہ تہماسب سے مدد مانگی۔ ایرانی بادشاہ نے ایک بڑی فوج اور ضروری سامان اس کے حوالے کیا۔

اس طرح ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے اظہر نو دہلی کے تخت پر قبضہ کیا۔ اس طرح ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے اظہر نو دہلی کے تخت پر قبضہ किया। 15 سال کے وقفے کے بعد مغل سلطنت دوبارہ دہلی میں قائم ہوئی، مگر دوبارہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے نظام میں ایران کے سیاسی اور تہذیبی اثرات داخل ہو گئے۔ ایرانی اس وقت آرٹ اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے، چنانچہ ایران سے آرٹسٹ، پینٹر، نقاش، اور شاعر قسم کے لوگ بڑی تعداد میں ہندوستان آنے لگے۔ ہندوستان کا مسلم سماج گہرے طور پر اس سے متاثر ہوا، اور ایرانی تہذیب کے رنگ میں رنگ گیا۔

(Encyclopedia Britannica, volume 17, page 132) تاریخ کے اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ جب آپ کسی سے مدد لے کر کامیابی حاصل کریں، تو وہ کامیابی صرف آپ کی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ اس میں اس شخص یا گروہ کا بھی دخل ہو جائے گا جس کی مدد سے آپ نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ ہزار کوشش کے باوجود اپنے آپ کو اس انجام سے نہیں بچا سکتے۔ ایسی حالت میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو کام کیا جائے، خود اپنی بنیاد پر کیا جائے۔

زیادہ بڑے کام کا شوق نہ کیا جائے، بلکہ چھوٹی سطح پر کام شروع کر کے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ یہی سچی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ تدریج ہے، چھلانگ نہیں۔ کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 172۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.