قرآن سے تعلق: امام شافعی 150-204 ہجری کو اصولِ فقہ کا مؤسس کہا جاتا ہے؛ علم و فضل کے علاوہ دینداری اور تقویٰ میں بھی وہ ممتاز مقام رکھتے تھے۔ امام احمد ابن حنبل کا قول ان کے بارے میں ہے کہ "میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس کی نسبت اسلام سے اس درجہ قوی ہو جتنی اپنے زمانے میں امام شافعی کی تھی۔ " امام شافعی کی عمر ابھی 10 سال سے بھی کم تھی کہ انہوں نے قرآن کا حفظ مکمل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر 3 دن میں قرآن کی ایک تلاوت مکمل کر لیتے تھے۔
ان کو قرآن سے بہت تعلق تھا؛ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر مسئلے کی اصل قرآن سے معلوم ہو جائے۔ تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ امت کا اجماع دین میں حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ امام شافعی کو یہ تلاش ہوئی کہ اجماع کے حجت ہونے کی دلیل قرآن سے معلوم کریں۔ چنانچہ انہوں نے یہ کیا کہ قرآن کو بار بار پڑھتے، اور کوئی ایسی آیت تلاش کرتے جس سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہو سکے۔
کہا جاتا ہے کہ اس کوشش میں امام موصوف نے 301 بار پورے قرآن کو پڑھ ڈالا۔ بالآخر انہوں نے اجماع کے حجت ہونے کی دلیل قرآن سے معلوم کر لی۔ ایک روز وہ تلاوت کر رہے تھے، یہاں تک کہ وہ سورہ آل عمران کی آیت 115 پر پہنچے تو اچانک ان پر منکشف ہوا کہ اس آیت میں اجماع کے حجت ہونے کی شرعی دلیل موجود ہے۔ وہ آیت یہ ہے: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُسْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَسِيرًا سورہ نمبر 4، آیت 115۔
یعنی: اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا، بعد اس کے کہ اس پر حق ظاہر ہو چکا، اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ چلا، تو جو کچھ وہ کرتا ہے، اس کو ہم کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ امام شافعی نے اس آیت کو پڑھ کر کہا کہ یہاں "سبیل المومنین" یعنی مومنین کا راستہ، سے وہی چیز مراد ہے جس کو ہم اجماعِ امت کہتے ہیں۔ دورِ اول کے اہلِ ایمان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر مسئلے کو قرآن سے معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے، خواہ اس کی خاطر انہیں سینکڑوں بار پورا قرآن پڑھنا پڑے۔ ان کو اس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک وہ کسی چیز کے بارے میں قرآن کا حکم دریافت نہ کر لیں۔
مگر اب لوگوں کا حال یہ ہے کہ قرآن کا استعمال ان کے یہاں یا تو برکت کے لیے ہوتا ہے یا صرف تلاوت کے لیے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 171۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.