Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Halaat ke Natij-e-me

Urdu · 4 min

حالات کے نتیجے میں امام مالک سے پوچھا گیا کہ جبری طور پر کسی سے طلاق لی جائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری طلاق طلاق نہیں ہے۔ یہ خلیفہ منصور کا زمانہ تھا، مدینے میں اس کا جو گورنر تھا اس نے امام مالک کو ایسا فتویٰ دینے سے روکا، مگر امام مالک نہ مانے۔ اس کے بعد گورنر نے حکم دیا کہ امام مالک کو 90 کوڑے مارے جائیں، چنانچہ حکم کی تعمیل ہوئی اور ان کی پیٹھ ننگی کر کے اس پر 90 کوڑے مارے گئے۔

سیر الاعلی من النبلاء، جلد 11، صفحہ 295۔ کوڑے کی مار سے اگرچہ امام مالک کی پیٹھ خون آلود ہو گئی تھی، لیکن گورنر نے دیکھا کہ اب بھی امام مالک کے اندر کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ ان کے پاؤں میں زنجیر ڈالی جائے اور چہرے پر سیاہی لگا کر مدینے کے راستوں میں گھمایا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، اور اونٹ پر بٹھا کر ان کو مدینے کے راستوں میں گھمایا گیا۔

امام مالک کا حال یہ تھا کہ اس وقت بھی وہ کہتے جاتے تھے: "جو مجھ کو جانتا ہے وہ جانتا ہے، اور جو نہیں جانتا تو میں مالک ابن انس ہوں، اور یہ کہتا ہوں کہ زبردستی کی طلاق کچھ نہیں ہے۔ " ألا من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا مالك ابن أنس أقول: طلاق المكره ليس بشيء. سیر الاعلی من النبلاء، جلد 7، صفحہ 179۔ ایک خالص غیر سیاسی فتوے پر وقت کے سیاسی حاکم نے اتنا شدید ردعمل کیوں ظاہر کیا؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ اگرچہ بذاتِ خود غیر سیاسی تھا، مگر وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے اس کے اندر سیاسی اہمیت پیدا ہو گئی تھی۔ اس زمانے میں عملاً نسلی بادشاہت چل پڑی تھی، تاہم اسلام کے اثر سے حکمران اس کو بھی ضروری سمجھتے تھے کہ وہ لوگوں سے بیعت لیں اور عوام کو یہ تاثر دیں کہ وہ عوامی رائے سے خلیفہ بنے ہیں، نہ کہ محض شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے۔ مگر عوام ان حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے تھے، چنانچہ خلفاء جبری طور پر لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔ اس پس منظر میں امام مالک کا فتویٰ بہت معنی خیز تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ جبری طلاق جس طرح بے اعتبار ہے، اسی طرح جبری بیعت بھی بے اعتبار ہے۔ گورنر کو اندیشہ ہوا کہ امام مالک کے فتوے کی وجہ سے خلیفہ کی بیعت لوگوں کی نگاہ میں غیر معتبر نہ ہو جائے، اسی لیے اس نے اس کا اتنا سخت نوٹس لیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خالص غیر سیاسی مسئلہ بھی مخصوص حالات کے نتیجے میں سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں مشرک بادشاہوں کا دعوت توحید کے خلاف شدید ردعمل بھی اسی قسم کے حالات کا نتیجہ تھا۔

کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.