Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Do Kirdaar

Urdu · 4 min

دو کردار: بنو عباس نے بنو امیہ سے اقتدار چھینا تھا، اس کے بعد انہوں نے اموی خاندان کے ایک ایک فرد کو قتل کرنا شروع کیا، تاکہ کوئی تخت کا دعویدار باقی نہ رہے۔ تاہم ان کا ایک نوجوان، یعنی عبدالرحمن الداخل، ان کی پکڑ سے بچ گیا۔ وہ دمشق سے بھاگ کر اسپین پہنچا، وہاں اس نے بنو امیہ کی مشہور سلطنت قائم کی۔ بنو عباس کا دارالسلطنت بغداد تھا، اور اسپین کی اموی حکومت کا دارالسلطنت قرطبہ۔

مذکورہ تاریخی پس منظر کی وجہ سے دونوں میں مسلسل رقابت رہی تھی۔ فرانس اس سمندر پار اموی سلطنت کا پڑوسی تھا۔ فرانس اس سمندر پار اموی سلطنت کا پڑوسی تھا۔ بغداد نے یہ کیا کہ اس نے فرانس کے عیسائی حکمران کی خدمت میں قیمتی تحفے روانہ کیے، اور اس کی حوصلہ افزائی کی، تاکہ وہ اسپین کی اموی حکومت کے خلاف کارروائی کر کے بغداد کے انتقامی جذبات کی تسکین کرے۔

دوسری طرف بغداد کی عباسی سلطنت کا پڑوسی قسطنطنیہ تھا۔ سابق رومی شہنشاہیت کا وارث قیصر، اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر اس وقت قسطنطنیہ میں اپنا مرکز قائم کیے ہوئے تھا۔ قیصر نے سوچا کہ بغداد جس طرح اسپین پر حملہ کرنے کے لیے فرانس کے عیسائی حکمران کی مدد کر رہا ہے، اسی طرح اگر میں بغداد کے خلاف مہم شروع کروں تو قرطبہ کی طرف سے مجھے مدد حاصل ہوگی۔ اس امید کے تحت قیصرِ قسطنطنیہ نے 2209 ہجری میں اپنا ایک سفیر قرطبہ کے اموی حکمران عبدالرحمن الثانی کے پاس بھیجا۔

بظاہر عبدالرحمن الثانی کو قیصر کے سفیر کا زبردست خیرمقدم کرنا چاہیے تھا، کیونکہ وہ اس کے دشمن کے خلاف چڑھائی کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس طرح وہ بغداد کے خلاف اپنے انتقامی جذبات کی تسکین حاصل کر سکتا تھا، مگر عبدالرحمن نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ قیصر کے سفیر نے عبدالرحمن الثانی سے کہا کہ اگر آپ قیصر سے دوستی کریں تو اس کے تعاون سے آپ اپنی آبائی سلطنت، یعنی شام، عراق، عرب وغیرہ، عباسیوں سے واپس لے سکتے ہیں۔ مگر عبدالرحمن الثانی نے قسطنطنیہ کے سفیر کو رسمی باتیں کر کے لوٹا دیا۔

انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے دشمن کے دشمن کو دوست بنانا ایک سطحی فعل ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اس قسم کے جذبات سے اوپر اٹھ جائے، جو اصول کی بنا پر لوگوں سے معاملہ کرے، نہ کہ دوستی اور دشمنی کی بنا پر۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 163۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.