Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Islam ki nayi Tareekh nanan-e-ke liye

Urdu · 4 min

اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے قرآن کی دو سورتوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ابدی طور پر غلبے کی نسبت عطا فرمائی ہے۔ هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليُظهره على الدين كله ولو كرهه المشركون. سورہ نمبر 61 آیت 9۔ سورہ نمبر 9 آیت 33۔

یعنی اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو ہر دین سے اوپر کر دے، خواہ شرک کرنے والوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس آیت میں ہدایت کی تفسیر قرآن سے کی گئی ہے اور دینِ حق کی اسلام سے، اور اظہار سے مراد حجت و بیان کے اعتبار سے اس کو سب پر فائق کر دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی صورت میں اللہ نے اپنا جو آخری دین اتارا ہے وہ کلی صداقت کا حامل ہے۔ اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ ہر دوسرے دین کے مقابلے میں بالا و برتر ثابت ہو، ہر دوسرا دین اس کے سامنے بے اصل ہو کر رہ جائے۔

اظہارِ اسلام سے مراد تقریباً اسی قسم کا ایک نظریاتی غلبہ ہے جو موجودہ زمانے میں جمہوری طرز فکر کو بادشاہی طرز پر اجتماعی ملکیت کے نظریے کو انفرادی ملکیت کے نظریے پر، اور طبعی علوم یعنی سائنس کو فلسفیانہ علوم پر حاصل ہوا ہے۔ قرآن کا یہ بیان دورِ اول میں مکمل طور پر واقعہ بن چکا ہے۔ اسلام کے ظہور نے دوسرے تمام مذاہب پر سایہ ڈال دیا۔ اس وقت جو ادیان رائج تھے، بت پرستی، پارسیت، یہودیت، عیسائیت، سب کے سب خود اپنے پیروں کی نظر میں اس طرح بے وزن ہو گئے کہ ان کی بہت بڑی اکثریت اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئی۔

ایشیا اور افریقہ کے جن ممالک کو آج مسلم ممالک کہا جاتا ہے، وہ سب نزولِ قرآن کے وقت غیر مسلم قوموں کی آبادیاں تھیں، مگر اسلام کے برتر فکر نے ان کو اس طرح متاثر کیا کہ وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام کے سائے میں آ گئیں۔ اسلام کی یہ برتری موجودہ زمانے میں واقعہ نہ بن سکی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اس کو برتر بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ہماری تحریکیں زیادہ تر دوسروں سے سیاسی زور آزمائی میں مصروف رہیں۔

انہوں نے دوسروں کے اوپر اسلام کے فکری اظہار کی جدوجہد نہ کی۔ یہ جدوجہد اگر آج سے ہونے لگے تو آج ہی سے اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے۔ ایک شخص نماز کے لیے مسجد روانہ ہوا۔ راستے میں کسی سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔

وہ اس سے لڑنے لگا، یہاں تک کہ جماعت کی نماز ختم ہو گئی۔ موجودہ زمانے کے مسلم مصلحین کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ان کو اسلام کی مثبت دعوت کے لیے اٹھنا تھا، مگر وہ بعض سیاسی شکایات سے متاثر ہو کر کچھ لوگوں سے قلمی اور لسانی جنگ لڑنے میں مصروف ہو گئے۔ انہی میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام کی نئی تشریح کر کے سیاسی زور آزمائی ہی کو عین اسلام قرار دے دیا۔

اب ہر ایک سیاست کے کاروبار میں مشغول ہے۔ دین کے مثبت پیغام کو لے کر اٹھنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.