Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Yahud ke Naqsh-e-qadam par

Urdu · 19 min

یہود کے نقشِ قدم پر، حضرت سلیمان ابن داؤد 930 تا 990 قبلِ مسیح کا زمانہ یہود کی تاریخ میں سب سے زیادہ باعظمت زمانہ ہے۔ اس زمانے میں فلسطین اور اطراف کے علاقوں میں ان کی مضبوط اور شاندار سلطنت قائم تھی۔ حضرت سلیمان کے بعد یہودیوں میں دینی اور اخلاقی زوال شروع ہوا۔ وہ خدا سے بے خوف ہو کر سطحی اعمال میں مبتلا ہو گئے، اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔

اس زمانے میں یہود کے مصلحین اور انبیاء نے ان کو زبردست تنبیہات کیں، جو آج بھی کثرت سے بائبل میں موجود ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر ایک جز نقل کیا جاتا ہے: "رب الافواج" یوں فرماتا ہے کہ میں ان پر تلوار اور قال اور وبا بھیجوں گا، اور ان کو خراب انجیروں کی مانند بناؤں گا جو ایسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں۔ اور میں تلوار اور قال اور وبا سے ان کا پیچھا کروں گا، اور میں ان کو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالے کروں گا کہ دھکے کھاتے پھریں اور ستائے جائیں، اور سب قوموں کے درمیان جن میں میں نے ان کو ہانک دیا ہے، لعنت اور حیرت اور سسکار اور ملامت کا باعث ہوں۔ اس لیے کہ انہوں نے میری باتیں نہیں سنیں۔

خداوند فرماتا ہے کہ جب میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو ان کے پاس بھیجا، ہاں ان کو بروقت بھیجا، پر تم نے نہ سنا۔ یرمیاہ باب 29 آیت 18۔ اس بگاڑ اور اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سلطنت ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گئی: ایک یہودیہ جو جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقے میں تھی، اس کا پائے تخت یروشلم تھا، دوسرے اسرائیل جو شمالی فلسطین اور شرق اردن کے علاقے میں قائم ہوئی، اس کا پائے تخت سامریہ قرار پایا۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی قائم کی ہوئی عظیم ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہو کر صرف دو کمزور حکومتوں کی صورت میں باقی رہ گئی۔

یہودیوں کے اخلاقی زوال اور باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اطراف کی سلطنتوں نے ان پر حملے شروع کر دیے۔ 721 میں ایشور (اشور) اسیریئن کے حکمران سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے اسرائیل کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد 598 میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلم کو مسخر کر کے سلطنت یہودیہ پر قبضہ کر لیا۔ خدا کے خاص لوگوں کے اوپر غیر قوم کا قبضہ یہود کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

ان کے اندر شدت سے مخالفانہ جذبات جاگ اٹھے۔ ان کے درمیان وہ قومی رہنما ابھرے جن کو بائبل میں جھوٹے نبی یا جھوٹی نبوت کرنے والے لوگ کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ دینی الفاظ بولتے تھے، مگر حقیقتاً جو چیز ان کی رہنما تھی وہ صرف ان کے اپنے رومانی تخیلات تھے، جو اسرائیل کی عظمتِ رفتہ کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے وقت کے حالات کے اثر سے ان کے اندر پیدا ہو گئے تھے۔ وہ نبوت کی زبان میں کلام کرتے تھے، مگر حقیقتاً وہ جھوٹے نبی تھے۔

بائبل کے الفاظ میں وہ خدا کے نام پر اپنی بات کہتے تھے، وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔ یرمیاہ باب نمبر 15 آیت 28، باب نمبر 31 آیت 29۔ ان رہنماؤں کی جذباتی باتوں کے زیرِ اثر یہودیوں میں آزادی اور احیائے نو کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ وہ بابل کی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے دوبارہ اپنی گزری ہوئی عظمت کو واپس لانے کا خواب دیکھنے لگے۔

اس موقع پر ان کے نبی حضرت یرمیاہ اٹھے اور یہودیوں سے کہا کہ تم کو دوسروں کے خلاف مہم چلانے سے پہلے خود اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ غیر قوم کا غلبہ تمہارے اوپر خدا کے حکم سے ہے، وہ اس لیے ہے کہ تم خدا کے راستے سے ہٹ گئے ہو۔ اب اپنے آپ کو خدا کی طرف واپس لا کر ہی تم اس مغلوبیت سے نجات پا سکتے ہو، نہ کہ محض دنیاوی قسم کی کارروائیاں کر کے۔ اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے خدا کی یہ تنبیہات بائبل کی کتاب یرمیاہ باب 27 آیت 33 میں موجود ہیں۔

چند فقرے یہ ہیں: تم اپنے جھوٹے نبیوں اور غیب دانوں اور خواب بینوں اور شگونیوں اور جادوگروں کی نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابل کی خدمت گزاری نہ کرو گے، کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ تم کو تمہارے ملک سے آوارہ کریں اور میں تم کو خارج کر دوں اور تم ہلاک ہو جاؤ۔ باب نمبر 27 آیت 9 تا 10۔ تم اپنی گردن شاہِ بابل کے جوے تلے رکھ کر اس کی اور اس کی قوم کی خدمت کرو اور زندہ رہو۔ باب نمبر 27 آیت 12۔

اور ان نبیوں کی باتیں اور ان نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابل کی خدمت نہ کرو گے، کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ کیونکہ خداوند فرماتا ہے: میں نے ان کو نہیں بھیجا، پر وہ میرا نام لے کر جھوٹی نبوت کرتے ہیں، تاکہ میں تم کو خارج کر دوں اور تم ان نبیوں کے ساتھ جو تم سے نبوت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو، خداوند کے گھر کے ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں بابل سے واپس آ جائیں گے، کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ ان کی نہ سنو، شاہِ بابل کی خدمت گزاری کرو اور زندہ رہو۔

پر اگر وہ نبی ہیں اور خداوند کا کلام ان کی امانت میں ہے تو وہ رب الافواج سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خداوند کے گھر میں اور شاہِ یہوداہ کے گھر میں اور یروشلم میں باقی ہیں، بابل کو نہ جائیں۔ باب نمبر 27 آیت 14 تا 18۔ رب الافواج اسرائیل کا خدا ان سب اسیروں سے جن کو میں نے یروشلم سے اسیر کروا کر بابل بھیجا ہے، یوں فرماتا ہے: تم گھر بناؤ اور ان میں بسو اور باغ لگاؤ اور ان کا پھل کھاؤ۔ بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں۔

اور اپنے بیٹوں کے لیے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پھولو اور کم نہ ہو۔ اور اس شہر کی خیر مناؤ جس میں میں نے تم کو اسیر کروا کر بھیجا ہے، اور اس کے لیے خداوند سے دعا کرو، کیونکہ اس کی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہوگی۔ کیونکہ رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمہارے درمیان ہیں اور تمہارے غیب دان تم کو گمراہ نہ کریں، اور اپنے خواب بینوں کو جو تمہارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو، کیونکہ وہ میرا نام لے کر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ میں نے ان کو نہیں بھیجا۔

باب نمبر 29 آیت 5 تا 9۔ حضرت یرمیاہ کی ان باتوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہود غیر قوموں کی غلامی پر ہمیشہ کے لیے راضی ہو جائیں۔ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریکیں چلا کر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تمہاری جن کمزوریوں نے غیر قوم کو تمہارے اوپر غلبہ دیا ہے، ان کو ختم کیے بغیر کس طرح یہ ممکن ہے کہ تم دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن حاصل کر لو؟

اس لیے ان کا کہنا تھا کہ تم بغاوت کی مہم چلانے سے پہلے اصلاح کی مہم چلاؤ۔ چنانچہ انہوں نے شاہِ بابل کا جوا قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہود کو یہ بشارت بھی دی کہ اگر تم خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلو تو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں اس کا جوا تیری گردن پر سے توڑ توڑوں گا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالوں گا، اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائیں گے۔ اس لیے اے اسرائیل گھبرا نہ جا، کیونکہ دیکھ میں تیری اولاد کو اسیری کی سرزمین سے چھڑاؤں گا، اور یعقوب واپس آئے گا اور کوئی اسے نہ ڈرائے گا۔ باب 30 آیت 8 تا 9۔

مگر یہود نے اپنے نبی کا مشورہ نہیں مانا، وہ ان جھوٹے رہنماؤں کی باتیں سنتے رہے جو ان کو الفاظ کی جذباتی شراب پلا رہے تھے، جو ان کو معمولی عمل سے بڑے بڑے نتائج کی فرضی امیدیں دلاتے تھے، جو نفرت اور ٹکراؤ جیسی فتنہ انگیز باتیں کرتے تھے۔ یرمیاہ باب 28 آیت 16۔ اس حماقت باب 23 آیت 29 کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاہِ بابل نبوکدنضر ان کے اوپر غضب ناک ہوا اور 587 قبل مسیح میں دوبارہ ان کے اوپر شدید شدید بدتر حملہ کیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کی تمام آبادیوں کو ویران کر کے رکھ دیا، بے شمار یہودیوں کو قتل کیا، یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح برباد کیا کہ بائبل کے الفاظ میں اس کی ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ کے اوپر باقی نہ رہی۔

سابق حاملی نے کتاب یعنی یہود کی یہ تاریخ موجودہ حاملی نے کتاب یعنی مسلمان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ مسلمان پچھلے ہزار برس تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ کمزوریوں کا شکار ہوئے۔ ان کے افراد میں اعلیٰ کردار باقی نہ رہا۔

وہ محنت کے بجائے عیش کے عادی ہو گئے۔ باہمی اختلافات نے ان کو بے شمار گروہوں میں بانٹ دیا۔ علم اور تہذیب کی ترقی میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس قسم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر مسلم قومیں ان کے اوپر غالب آ گئیں۔

مسلمانوں کی عظمت ہر جگہ پامال کر کے رکھ دی گئی۔ یہ واقعہ انیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ بیسویں صدی عیسوی اس صورتحال کے خلاف جدوجہد کی صدی ہے۔ مگر یہاں بھی عملاً وہی ہوا جو ڈھائی ہزار سال پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔

اب کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنہوں نے مسلمانوں سے یہ کہا کہ پہلے اپنے آپ کو مستحکم بناؤ، غالب قوتوں سے تصادم کے بغیر اصلاحی میدان میں اپنی کوششیں صرف کرو جو اب بھی تمہارے لیے کھلا ہوا ہے۔ مگر مسلمانوں نے ایسے مصلحین کی بات بالکل نہیں سنی۔ ان کو انہوں نے بزدل سامراج کا ایجنٹ اور انقلاب اسلام کا دشمن قرار دیا۔ دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ اٹھے جو جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے تھے۔

انہوں نے جذباتی تقریریں کیں، رومانی اشعار سنائے، خوبصورت نظریے پیش کیے، مبالغہ آمیز قسم کی امیدیں دلائیں۔ مسلمان ایسے لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑے۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ اور انقلابی جہاد میں مشغول ہو گئے۔ بائبل کے الفاظ میں اس جھوٹی نبوت کا نتیجہ وہی ہوا جو یہودیوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔

مسلمانوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہر محاذ پر شکست کھائی۔ ان کی بڑی بڑی تحریکیں اس طرح فنا ہو گئیں جیسے وہ ایک تنکا تھا جو ہواؤں کے طوفان میں اڑ گیا۔ ان کے مفکروں اور رہنماؤں کے بولے ہوئے شاندار الفاظ کاغذ کی کشتی ثابت ہوئے جو دریا کی موجوں میں ایک منٹ بھی کسی مسافر کے کام نہیں آتی۔ ان مسلم رہنماؤں کی مقبولیت کا راز یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔

وہ حق کے ترجمان نہ تھے بلکہ عوامی جذبات کے ترجمان تھے۔ اور جو لوگ اس قسم کی بے حقیقت چیزوں کے اوپر کھڑے ہوں ان کا انجام حقیقت کی اس دنیا میں وہی ہے جو ان رہنماؤں کا ہوا۔ اوپر جس حقیقت کا ذکر کیا گیا وہ کوئی انوکھی یا غیر معلوم بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ اور دینی تعلیمات میں بالکل واضح ہے۔

اس کے باوجود ہمارے رہنما اور مفکرین کیوں اس کو سمجھ نہیں پاتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رد عمل کی نفسیات نے لوگوں کا ذہنی شاکلہ بگاڑ دیا ہے۔ اور آدمی کسی بات کو اپنے ذہنی شاکلے ہی کے مطابق سمجھ پاتا ہے۔ اگر آدمی کا ذہنی شاکلہ مختلف ہو تو وہ کسی طرح اصل بات کو سمجھ نہیں سکتا۔

یہاں ہم اس کی ایک مثال پیش کریں گے۔ ایک مشہور مفکر اسلام نے سورہ بنی اسرائیل سورہ نمبر 17 آیت 5 کی تفسیر کے تحت ایک لمبا نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ یہود کے بگاڑ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کے لوگ بت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو مسخر کر لیا۔ اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس خیدی بن کر رہا۔

یہودیوں کی بد اعمالیوں کا سلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا اور حضرت یرمیاہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔ اوپر کے اقتباس کے آخری جملے پر غور کیجئے۔ موصوف کے الفاظ کے مطابق یہ بد اعمالی کی ایک قسم ہے کہ غالب حکومت کے خلاف سیاسی جہاد کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔ گویا انہوں نے ہماری مذکورہ بات کی صداقت کو مزید شدید تر الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔

مگر یہی وہ مصنف اور مفکر ہیں جنہوں نے موجودہ زمانے میں اس نظریے کی پرزور وکالت کی کہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نیا دور لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکمرانوں سے تصادم کر کے ان کو تخت سے بے دخل کیا جائے۔ اور خود اپنی طویل عمر کے تمام بہترین سال انہوں نے اسی قسم کے سیاسی جہاد میں گزار دیے۔ حقیقت کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے اس قدر بے خبر رہنے کی وجہ صرف شاکلے کا فرق ہے۔ آدمی ایک آیت کے مطالعے کے ذیل میں تاریخ انبیاء کے مذکورہ واقعے کو پڑھتا ہے۔

وہ اس کے علم میں آتی ہے مگر چونکہ اس کا ذہنی شاکلہ مختلف ہے اس لیے یہ حقیقت اس کے ذہن کا جز نہیں بنتی۔ وہ اس کی فکر کی تشکیل میں موثر ثابت نہیں ہوتی۔ ہدایت کے راستے کو پانے کی اہم ترین شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے مصنوعی شاکلے کو توڑے اور فطرت کے حقیقی شاکلے کے مطابق چیزوں کو دیکھے۔ اس کے بغیر کوئی شخص ہدایت کے ابدی راستے کو نہیں پا سکتا۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 42۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.