خوفِ خدا۔ عمر ابن عبدالعزیز ابن مروان ابن الحکم الاموی، 61 تا 101 ہجری کا درجہ اسلام میں اتنا بڑھا ہے کہ ان کو پانچویں خلیفہ راشد، یعنی خامس الخلفاء الراشدین، کہا جاتا ہے۔ ان کی مدتِ خلافت 2. 5 سال ہے۔
ان کے حالات پر کئی مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً ابن الجوزی سیرت عمر ابن عبدالعزیز، عبداللہ ابن الحکیم سیرت عمر ابن عبدالعزیز، عبدالرؤوف المناوی سیرت عمر ابن عبدالعزیز، احمد زکی صفوت عمر ابن عبدالعزیز، عبدالعزیز سید سید الاہل الخلیفۃ الزاہد۔ اموی خلفاء میں وہ واحد خلیفہ ہیں جن کا اعتراف ان کے بعد عباسیوں نے کیا۔ شیعہ حضرات کے درمیان بھی ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام کے علاوہ غیر مسلموں میں بھی ان کا غیر معمولی اعتراف کیا گیا۔
محمد ابن معبد کہتے ہیں کہ میں شاہِ روم کے یہاں گیا تو اس کو مغموم حالت میں زمین پر بیٹھا ہوا پایا۔ میں نے حال پوچھا تو اس نے کہا: "کیا تم کو معلوم نہیں کہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا؟ " میں نے پوچھا کہ کیا حادثہ؟ اس نے کہا کہ مردِ صالح کا انتقال ہو گیا۔
میں نے پوچھا کہ کون؟ شاہِ روم نے کہا کہ عمر ابن عبدالعزیز۔ میرا خیال ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کے بعد اگر کوئی شخص مردے کو زندہ کرنے والا ہوتا تو یقیناً وہ عمر ابن عبدالعزیز ہوتے۔ ایک مسیحی راہب کو لوگوں نے روتے ہوئے دیکھا۔
پوچھا کہ تم کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ زمین پر ایک نور تھا، مگر اب وہ نور نہیں رہا۔ عمر ابن عبدالعزیز کی موت کے بعد کچھ لوگ ان کی اہلیہ کے پاس گئے اور کہا کہ ان کی کوئی خاص بات بتائیے۔ اہلیہ نے کہا کہ خدا کی قسم، عمر نماز اور روزے میں تم سے زیادہ نہ تھے، مگر خدا کی قسم میں نے کبھی کسی انسان کو نہیں دیکھا جو عمر سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔
والله ما كان عمرُ بأكثركم صلاةً ولا صياماً، ولكنّي والله ما رأيتُ عبداً للهِ قطُّ كان أشدَّ خوفاً من عمر. مختصر تاریخِ دمشق، جلد 19، صفحہ 122۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.